خطبات محمود (جلد 35) — Page 270
$1954 270 خطبات محمود کہیں موقع نہ مل جائے۔جب مرکز کی یہ حالت ہو تو بیرونی جماعتوں کے متعلق کیا کہا جا سکتا کی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ متواتر اس قسم کے حالات پیدا ہوئے ہیں کہ جب کسی ناگہانی بلاء کے وقت مصیبت زدوں کی مدد کی گئی تو اس کا اثر ایک لمبے عرصہ تک علاقہ میں رہا۔پچھلے دنوں ایک کار کی ٹکر کا واقعہ لالیاں میں ہو گیا تھا۔حکومت کے افسران نے جماعت سے کہا کہ اس وقت ہم تو مصیبت زدگان کی کوئی مدد نہیں کر سکتے آپ ہی اُن کی مدد کریں۔اس پر کچھ دوست وہاں گئے اور انہوں نے مدد کی۔اس کی وجہ سے دس پندرہ دن تک علاقہ میں شور رہا کہ فلاں موقع پر احمدیوں نے یہ کیا۔احمدیوں نے مصیبت زدگان سے ہمدردی کا سلوک کیا، ان کی مرہم پٹی کی اور انہیں مناسب جگہوں پر پہنچایا۔پھر پچھلا سیلاب آیا تھا۔یہ موقع بھی ایسا تھا کہ مصیبت زدگان سے ہمدردی کا اظہار کیا جاتا اور جماعت نے ایسا کیا بھی۔اب پھر سیلاب آیا ہے۔اس موقع کو بھی ہمیں ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔اس موقع پر اگر دفاتر میں چھٹی بھی کر دی جائے تو کوئی حرج نہیں۔مثلاً آخری جمعرات کو ہمارے دفاتر اور دیگر ادارے بند رہتے ہیں لیکن گورنمنٹ کے دفاتر میں ایسا نہیں ہوتا۔مجھے بعض دوستوں نے معین صورت میں کہا ہے کہ جب گورنمنٹ کے اداروں میں اس قسم کی چھٹی نہیں ہوتی تو ہمارے مرکز میں ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ میں اس کی تحقیقات کر رہا ہوں۔لیکن اگر آخری جمعرات کو چھٹی ضروری ہے تو ایسے مواقع پر کیوں چھٹی نہیں دی جاتی تا مصیبت زدگان کی امداد کی جائے یا سڑکوں کی مرمت کی جائے تاکہ لوگوں کے تعلقات جو منقطع ہو جاتے ہیں وہ دوبارہ قائم ہو جائیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کئی احمدی اِس بات سے چڑ جاتے ہیں کہ جن لوگوں کی ہم مدد کرتے ہیں وہی کچھ عرصہ کے بعد ہم سے دشمنی کرنے لگ جاتے ہیں۔لیکن یہی چیز تو مزہ دیتی ہے۔کیونکہ اگر وہ لوگ جن کی خدمت کی جائے مخالفت کرنے لگ جائیں تو ہمارا دل اس بات پر خوش ہو گا کہ ہم نے جو کچھ کیا ہے انسان کی خاطر نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاطر کیا ہے۔ابھی اس طوفان میں ایک واقعہ پیش آیا ہے۔ایک بس سروس کمپنی کے متعلق ہمیشہ شکایت آتی ہے کہ وہ اپنی لاریاں ربوہ میں نہیں ٹھہراتی بلکہ اُن کی لاریاں یا تو احمد نگر کے قریب