خطبات محمود (جلد 35) — Page 269
$1954 269 خطبات محمود وَالْمَحْرُومِ۔ہمسایہ محروم میں اس لیے شامل نہیں کہ گو وہ ہم سے نہیں مانگتا لیکن اُس کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔پس عدم علم کی وجہ سے محروم نہیں ہے۔اسی طرح کراچی اور حیدرآباد (سندھ) کے رہنے والے محروم نہیں کیونکہ گو ہم اُن کی براہِ راست کوئی مدد نہیں کرتے لیکن ہم گورنمنٹ کو ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور اُس ٹیکس سے حکومت اُن کی امداد کر رہی ہے۔لیکن ہندوستان اور چین والوں کی نہ ہم براہ راست کوئی مدد کرتے ہیں اور نہ ہماری حکومت اُن کی کی کوئی مدد کرتی ہے۔اگر ہم اس قسم کے محروم لوگوں کی مدد کرنا چاہیں تو وہ اس طرح ہو سکتی ہے کہ ہم ریڈ کر اس یا ہلال احمر کی قسم کی بعض سوسائٹیاں بنا لیں اور عام حالات میں اپنے اموال سے کچھ نہ کچھ بطور چندہ دیتے رہیں تا اگر کسی قوم پر کوئی بڑی مصیبت آئے تو ان سوسائیٹیوں کی وساطت سے ہم اُس کی مدد کر سکیں۔پس اس آیت کے مطابق میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کو اس قسم کے ذرائع اختیار کرنے چاہیں کہ وہ اُن لوگوں کی مدد کو بھی پہنچ سکیں جن تک عام حالات میں ان کی پہنچ نہیں۔اور اگر اللہ تعالیٰ اس قسم کے سامان پیدا کر دے کہ ہم دوسرے لوگوں کی مدد کر سکیں تو ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔بلکہ پورے جوش کے ساتھ اس میں حصہ لینا چاہیے۔پچھلے دنوں مشرقی پاکستان میں سیلاب آیا جس پر میں نے خطبہ پڑھا اور جماعت کو تاکید کی کہ فوری طور پر چندہ کر کے مشرقی پاکستان کی مالی امداد کی جائے۔اس پر پہلا عمل تو میرے دفتر نے کیا کہ انہوں نے دو دن تک میرا خطبہ دبا رکھا اور پھر اُسے ڈاک کے ذریعہ الفضل کو بھیجا۔اُن دنوں ڈاک میں ایسی مشکلات پیش آگئیں کہ خطبہ الفضل والوں کو قریباً دس دن بعد ملا۔دوسرا عمل نظارت علیاء، نظارت امور عامہ اور نظارت بیت المال نے کیا کہ ان کی طرف سے پندرہ دن تک اخبار میں کوئی تحریک نہ چھپی۔پھر تیسرا عمل الفضل والوں نے ی کیا کہ انہوں نے صرف خطبہ شائع کر دیا۔بعد میں اس تحریک کا تکرار نہ کیا۔گویا خدا تعالیٰ نے جو ہمارے لیے اس قسم کا موقع بہم پہنچایا تھا کہ ہم مشرقی پاکستان کی مدد کر سکیں اُس کے متعلق پوری کوشش کی گئی کہ جماعت کے کانوں میں یہ تحریک نہ پڑے اور دفتر والوں نے سارا زور اس بات پر لگا دیا کہ میری یہ تحریک جماعت تک پہنچنے نہ پائے تا انہیں ثواب کا