خطبات محمود (جلد 35) — Page 271
$1954 271 خطبات محمود ٹھہرتی ہیں یا چنیوٹ کے پاس جا کر ٹھہرتی ہیں تا ربوہ سے احمدی سوار نہ ہوں۔جب طوفان آیا اور سڑک پانی کے نیچے آ گئی تو مسافروں کی امداد کرنے کے لیے ربوہ کے خدام سڑک پر گئے۔اس بس سروس کمپنی کی ایک لاری پانی میں پھنس گئی۔جب خدام مدد کے لیے گئے تو ڈرائیور نے کہا تم لاری کو ہاتھ نہ لگاؤ۔مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں۔چنانچہ ڈرائیور اور مسافر کافی وقت تک زور لگاتے رہے لیکن لاری نہ نکلی۔بعد میں وہ مجبور ہو کر خدام کے پاس آئے اور اُن سے کہا کہ لاری نکالنے میں ہماری مدد کی جائے۔چنانچہ کچھ خدام گئے اور انہوں نے نہایت محنت سے اُس لاری کو باہر نکال دیا۔ڈرائیور نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ لوگوں نے ہماری خاطر بہت تکلیف برداشت کی ہے۔اس دوران میں کسی لڑکے نے یہ کہہ دیا کہ آپ شکریہ تو ادا کرتے ہیں مگر کیا احمدیوں کو کبھی اپنی لاری میں سوار بھی کریں گے؟ اُس لڑکے کو ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا کیونکہ انہوں نے جو کچھ کیا تھا خدا تعالیٰ کی خاطر کیا تھا۔مگر تاہم اُس ڈرائیور نے یہ جواب دیا کہ اب ہم پہلے آپ کو بٹھایا کریں گے پھر اور کسی کو بٹھائیں گے۔لیکن دل ایک دن میں نہیں بدلا کرتے۔دل آہستہ آہستہ بدلتے ہیں۔اس لیے تم اپنا کام کرتے چلے جاؤ اور اس بات کا خیال نہ آنے دو کہ دوسرے لوگ تمہاری مخالفت کرتے ہیں ؟ تمہاری خدمت کی قدر کرتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بار بار فی سبیل اللہ کے الفاظ بیان فرماتا ہے کہ تم جو نیکی بھی کرو خدا تعالیٰ کی خاطر کرو۔اس لیے چاہے تم سو دفعہ نیکی کرو اور جن سے تم نیکی کرو وہ سو دفعہ تمہاری مخالفت کریں۔وہ تمہارے دشمن ہو جائیں مگر تم نیکی کو ترک نہ کرو۔آخر قیامت کے دن انہی کو پکڑا جائے گا اور تمہارے گلے میں سوسو بار پڑیں گے۔پس تم میں سے کسی کو اس بات کا خیال نہیں کرنا چاہیے کہ تمہارے حُسنِ سلوک کی کوئی قدر بھی کرتا ہے یا نہیں۔تم نے جو کچھ کرنا ہے خدا تعالیٰ کی خاطر کرنا ہے اور وہی تمہاری نیکی کا بدلہ دے گا۔اس دفعہ لاہور کی جماعت نے قربانی کا اچھا نمونہ پیش کیا ہے اور وہاں کے خدام نے قابلِ تعریف کام کیا ہے۔مجھے اس بات سے بہت خوشی ہوئی کہ اس دفعہ اُن میں بیداری پیدا ہوئی ہے اور انہوں نے مصیبت زدگان کی خوب مدد کی ہے اور انہوں نے اُن مکانوں میں