خطبات محمود (جلد 35) — Page 241
$1954 241 خطبات محمود سلسلہ اب تک زندہ ہے۔اس لیے وہ ڈرتے نہیں۔لیکن ایک پیدائشی احمدی جن کو ان تکالیف سے واسطہ نہیں پڑا وہ وقت پر بزدلی دکھا جاتا ہے۔اسی طرح نئے آنے والوں میں ایک قسم کی غیرت ہوتی ہے۔وہ کہتے ہیں ہم تو اپنی جائیدادیں چھوڑ کر آئے ہیں۔اس لیے جماعت کا جوانی چندہ آتا ہے اسے ہم کیوں خراب کریں۔لیکن ایک نسلی احمدی جب مال دیکھتا ہے تو وہ اس میں سے کچھ ذاتی استعمال میں لے آتا ہے اور سمجھتا ہے اس کی وجہ سے میری حالت درست ہو جائے گی۔پس مالوں کا غبن ہونا، افراد کا بددیانت ہونا کوئی قابلِ تعجب بات نہیں۔یہ بات ہر نئی اور پرانی، جھوٹی اور سچی قوموں میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے۔فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ جو قومیں اپنی تباہی چاہتی ہیں وہ ان حالات کو دیکھ کر اصلاح کی طرف توجہ نہیں کرتیں۔لیکن جو قومیں تباہی سے بچنا چاہتی ہیں وہ اُن حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں۔ورنہ غبن، خیانت اور بددیانتی جیسی مسلمانوں میں ہے ویسی ہی یہودیوں، ہندوؤں، کنفیوشس کے ماننے والوں، شنٹوازم والوں، عیسائیوں اور سکھوں سب میں پائی جاتی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ جو قومیں بیدار ہیں وہ اِن بُرائیوں کے دبانے میں لگی رہتی ہیں اور جو قومیں مُردہ ہیں وہ ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیتی ہیں۔وہ ان بُرائیوں کو دباتی نہیں بلکہ مجرموں کی تائید کرتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کسی بڑے خاندان کی ایک عورت نے چوری کی اور شکایت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچی۔جب لوگوں کو پتا لگا تو وہ سفارش لے کر آئے کہ یہ عورت فلاں خاندان سے ہے اور بہت معزز ہے۔اگر اس عورت کا ہاتھ کاٹا گیا تو بڑی بدنامی ہو گی۔یہ سُن کر آپ کا چہرہ سُرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا خدا کی لکی قسم ! اگر محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالتا 1 ( بعض نادانوں نے اس روایت سے یہ دھوکا کھایا ہے کہ شاید حضرت کوئی ایسا الزام لگا تھا۔یہ جھوٹ ہے۔خاندانِ نبوت کے کسی فرد پر بددیانتی کا الزام تک بھی نہیں لگا )۔اس طرح وہ لوگ سمجھ گئے کہ اگر آپ اپنے خاندان کے افراد کو چھوڑنے لیے تیار نہیں تو دوسرے کے متعلق سفارش کس طرح مان سکتے ہیں۔چنانچہ جب تک فاطمه