خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 242

$1954 242 خطبات محمود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ اصول رائج رہے، مسلمانوں میں انصاف قائم رہا لیکن جب آپ کے بیان کردہ اصولوں پر عمل نہ رہا تو انصاف بھی غائب ہو گیا۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی وہی تھے، نماز بھی وہی تھی، کلمہ بھی وہی تھا لیکن قوم کی کی حالت گرتی چلی گئی۔اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو نصائح بیان فرمائیں مسلمانوں نے انہیں بھلا دیا۔اصلاح نفس کے متعلق جو تراکیب آپ نے بیان فرمائی تھیں وہ بُھلا دی گئیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ مختلف قسم کی کمزوریاں مسلمانوں میں پیدا ہو گئیں۔ہم میں بھی بعض کمزوریاں آگئی ہیں اور بعض آ رہی ہیں۔انہیں دیکھ کر جماعت کے بعض بیوقوف لوگ گھبرا جاتے ہیں۔وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ چوریاں، غبن اور بددیانتی آدم کے وقت سے چلی آ رہی ہیں۔کوئی ہسپتال ایسا نہیں نکلا جہاں ان کا علاج ہو سکے اور کوئی دوائی ایسی ایجاد نہیں ہوئی جس سے ان بیماریوں کا علاج کیا جا سکے۔دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں آیا جس نے گناہ بالکل ختم کر دیا ہو۔خدا تعالیٰ کا کوئی قانون ایسا نہیں آیا جس نے روحانی بیماریوں کو قطعی ختم کر دیا ہو۔حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی روحانی بیمار تھے، حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں بھی روحانی بیمار تھے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی روحانی بیمار تھے، حضرت موسی کے زمانہ میں بھی روحانی بیمار تھے ، حضرت عیسی کے زمانہ میں بھی روحانی بیمار تھے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی روحانی بیمار تھے اور آج بھی روحانی بیمار موجود ہیں۔غیروں میں اور ان میں فرق صرف یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے دشمن روحانی بیماری کو دبانے کی جرات نہیں رکھتے تھے لیکن آدم کے ماننے والے روحانی بیماریوں کا مقابلہ کرنے کی جرات رکھتے تھے۔اس لیے انہوں نے اپنے اخلاق کا اعلیٰ معیار قائم کر لیا تھا۔حضرت نوح علیہ السلام کے دشمنوں میں بھی ان بُرائیوں کو دبانے کی کی جرات نہ تھی لیکن آپ کے ماننے والے ان برائیوں کا مقابلہ کرنے کی جرات رکھتے تھے اور مقابلہ کرتے رہے۔چونکہ وہ ان برائیوں کو دباتے چلے گئے اس لیے ان کی قوم تباہی سے بچن گئی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت میں بھی روحانی بیماریاں پائی جاتی تھیں۔آپ کے دشمن ان کو مٹانے کی جرات نہیں رکھتے تھے۔لیکن آپ کے ماننے والوں نے انہیں مٹانا شروع کیا۔