خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 240

$1954 240 خطبات محمود حاصل کرنا شروع کیا جس کے نتیجہ میں وہ جیل خانوں میں گئے اور لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل ہو گئے۔غرض ماں باپ نے صرف سینما ہی نہیں دیکھا تھا بلکہ اس کے اثرات کو بھی کی دیکھا تھا۔انہوں نے شریف خاندانوں کو سینما کی بدولت تباہ ہوتے دیکھا تھا۔اس لیے وہ اس سے متنفر ہو گئے۔لیکن ان کے بیٹے نے سینما کے اثرات کو نہیں دیکھا۔اس نے اس کی بدولت خاندانوں کو تباہ ہوتے نہیں دیکھا۔وہ جب غیر سے ملتا ہے اور سینما دیکھتا ہے تو سمجھتا ہے کہ سینما تو بہت اچھی چیز ہے۔میرے ماں باپ بڑے بیوقوف تھے کہ انہوں نے مجھے سینما سے دور رکھا اور اس سے لطف نہ اُٹھانے دیا۔اس نے نقش دیکھے، گیت سنے، ناچوں سے لطف اُٹھایا، ایکٹروں اور ایکٹرسوں کو دیکھا۔لیکن یہ نہ دیکھا کہ اس کے بداثرات کی وجہ سے کتنے شریف خاندان تباہ ہو گئے۔اس لیے اُس نے اچھے نقش دیکھ کر اور ایکٹروں کی شکلیں دیکھ کر اپنے ماں باپ، بھائیوں اور دوسرے بزرگوں کو بیوقوف سمجھا۔گویا جو چیزیں اُس کے ماں وہ باپ، بہن، بھائیوں اور دوسرے بزرگوں کو مایوس کرنے والی اور نفرت دِلانے والی تھیں اُسے اپنی طرف کھینچنے والی ثابت ہو جاتی ہیں۔ایک ہی چیز ہے جو ماں باپ کو ایک طرف لے گئی اور بیٹے کو دوسری طرف لے گئی۔پھر احمدیت کو قبول کرنے کی وجہ سے جو مشکلات پیش آتی ہیں اُن سے اُس کا واسطہ نہیں پڑتا۔جب اُس کے ماں باپ اور بزرگ احمدیت میں داخل ہوئے تو لوگوں نے انہیں مختلف قسم کی تکالیف دیں۔انہوں نے ان کا بائیکاٹ کر دیا، ضروریات زندگی انہیں مہیا نہ ہونے دیں، بازار سے اگر کوئی شخص سودا دے بھی دیتا تھا تو ناک چڑھا کر اس طرح دیتا تھا جس طرح کتے کے آگے ٹکڑا ڈال دیا جاتا ہے اور چونکہ وہ ساری مشکلات کو برداشت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے تھے اس لیے وہ کسی بات سے گھبراتے اور کی ڈرتے نہیں تھے۔وہ جب سنتے تھے کہ لوگ انہیں مار ڈالیں گے تو کہتے تھے ہم تو بیسیوں سال کی سے اس قسم کی دھمکیاں سن رہے ہیں لیکن یہ سلسلہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔لیکن جب ایک پیدائشی احمدی ان باتوں کو دیکھتا ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے۔ماں باپ چونکہ تجربہ کر چکے ہوتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ لوگوں نے اس سلسلہ میں داخل ہونے والوں کو سخت قسم کی تکالیف دیں، نہوں نے انہیں مار ڈالنے کی دھمکیاں دیں بلکہ عملی طور پر کچھ لوگوں کو مار بھی ڈالا۔پھر بھی