خطبات محمود (جلد 35) — Page 189
$1954 189 خطبات محمود مَعَ الصَّدِقِيْنَ کے حکم پر چلنے والے ہوں تو باپ کے خلاف بیٹا گواہی دینے کے لیے کھڑا ہوا جائے گا اور خاوند کے خلاف بیوی گواہی دینے کے لیے کھڑی ہو جائے گی اور وہ بالکل گھبراتی جائے گا اور کہے گا کہ ایسی حالت میں میرا جھوٹ بولنا بے فائدہ ہے۔اور اس روح کا اپنے اندر قائم کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔جب انسان ارادہ کرلے تو پھر وہ بڑے سے بڑا کام بھی کر سکتا ہے۔بلکہ عورتیں بھی اگر جرات سے کام لیں تو وہ ایمان کا حیرت انگیز مظاہرہ کرتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ ایک نوجوان رشتہ کرنے کا خواہشمند تھا۔اُسے ایک لڑکی اپنے رشتہ کے لیے پسند آئی۔اس نے لڑکی کے باپ سے جا کہ کہا کہ مجھے اور تو سب باتیں پسند ہیں، لڑکی میں تعلیم بھی ہے، اخلاق بھی ہیں، خاندانی وجاہت بھی ہے، میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ ایک دفعہ لڑکی کو دیکھ لوں کیونکہ میں نے ساری عمر اس کے ساتھ نباہ کرنا ہے۔یہ بات سُن کر لڑکی کا باپ خفا ہو گیا اور اُس نے کہا نکل جاؤ میرے گھر سے پردہ کا حکم اُس وقت نازل ہو چکا تھا)۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے تمام واقعہ بیان کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پردہ کا حکم غیر عورتوں کے لیے ہے۔شادی کے لیے اگر انسان کسی لڑکی کو دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتا ہے کیونکہ اس نے ساری عمر اس کے ساتھ رہنا ہوتا ہے۔اُس نے لڑکی کے باپ کو جا کر کہہ دیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تھی۔آپ نے فرمایا ہے کہ لڑکی دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔اب چونکہ مسلمانوں میں پردہ کا رواج ہو چکا تھا اس لیے انہیں یہ عجیب بات نظر آتی تھی ورنہ پہلے تو عورتوں کا ناچنا اور گانا بھی اُنہیں بُرا نہیں لگتا تھا۔بہر حال جب اُس نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی کو دیکھنے کی اجازت دی ہے تو اُس نے کہا کہ میں ایسا بے غیرت نہیں ہوں کہ اپنی لڑکی تجھے دکھا دوں۔اندر اُس کی بیٹی بیٹھی ہوئی تھی۔اُس نے جب یہ سنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لڑکی کو دیکھ لینا جائز ہے اور اس کا کہتا ہے کہ میں بے غیرت نہیں تو چونکہ اُس کے اندر ایمان تھا اُسے غصہ آیا اور وہ اپنا نقاب اتار کر ننگے منہ اُس کے سامنے آگئی اور کہنے لگی میرے باپ کا کیا اختیار ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دیکھنا جائز ہے تو یہ کون ہے روکنے والا۔3