خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 190

$1954 190 خطبات محمود اس کی اس نیکی کا اُس لڑکے پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے اپنا منہ پھیر لیا اور وہ کہنے لگا خدا کی قسم ! میں تیرے ساتھ بغیر دیکھے ہی شادی کروں گا۔جس عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا اتنا احترام کیا ہے کہ اپنے باپ کو اس نے ٹھکرا دیا ہے میں گناہ سمجھتا ہوں کہ اُس کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھوں۔تو عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں۔صرف ارادہ ہونا چاہیے۔اگر تم ارادہ کر لو تو تمہارے لیے چھوٹے سے چھوٹے ارادہ سے ہی قوم کی حالت بدل سکتی ہے۔اگر ہر بچہ، ہر بوڑھا، ہر جوان، ہر مرد اور ہر عورت یہ عہد کر لے کہ میں نے سچ بولنا ہے، چاہے اس کے نتیجہ میں میں کسی مقدمہ میں پھنس جاؤں یا پھانسی پر چڑھ جاؤں تو تھوڑے دنوں میں ہی تم اپنے اندر ایک عظیم الشان تغیر محسوس کرنے لگو گے۔یہ مت خیال کرو کہ سچ بولنے پر پھانسی ملتی ہے۔جو شخص سچ بولنے والا ہو وہ ایسے کام ہی نہیں کرتا جن کے نتیجہ میں اُسے پھانسی ملے۔لیکن جھوٹ بولنے والا سمجھتا ہے کہ اگر میں نے جھوٹ بولا تو شاید بچ جاؤں۔اس لیے وہ دلیری سے ایسے افعال میں مبتلا ہو جاتا ہے جن کا نتیجہ بعض دفعہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔اور یا پھر سچ بولنے والا اُس وقت پھانسی چڑھتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ اب میرا مذہبی فرض ہے کہ میں اپنی جان پیش کر دوں۔پھر وہ دلیری کے ساتھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے بیشک پھانسی دے دو۔یاد رکھو! قوم کی عزت کو اونچا کرنا افراد کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور بیچ ایسی چیز ہے جس سے قوم کی عزت اور اس کا وقار قائم ہوتا ہے۔اس میں نہ روپے کا سوال ہوتا ہے نہ علم کا سوال ہوتا ہے، نہ طاقت کا سوال ہوتا ہے، نہ کسی فن کے جاننے کا سوال ہوتا ہے۔چندے کا سوال آئے تو غریب کہہ دیتے ہیں کہ ہم کہاں سے دیں، جہاد کا سوال آئے تو ناواقف لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہم لڑنا نہیں جانتے ، علم کا سوال آئے تو بے علم لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کیا خدمت کر سکتے ہیں۔لیکن یہ ایسا کام ہے جس میں غریب اور امیر اور چھوٹے اور بڑے کا کوئی امتیاز نہیں۔دنیا میں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے سچ بولنا آتا نہیں کیونکہ سچ بولنا سکھایا نہیں جاتا بلکہ جھوٹ بولنا سکھایا جاتا ہے۔اس وقت تم مسجد میں بیٹھے ہو اگر تم سے کوئی پوچھے کہ تم فلاں وقت کہاں تھے؟ تو تم فوراً کہہ دو گے کہ ہم مسجد میں بیٹھے تھے۔لیکن اگر