خطبات محمود (جلد 35) — Page 188
$1954 188 خطبات محمود جب باپ کو سرکاری ہتھکڑی لگ جاتی ہے تو کیا اُس کے بیٹے کو کبھی جرات ہوتی ہے کہ وہ اُس ہتھکڑی کو اُتار دے؟ یہ جرات کیوں نہیں ہوتی ؟ اس لیے کہ دنیا میں حکومت قائم ہوتی۔اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے اس کے احکام میں مداخلت کی تو مجھے سزا دی جائے گی۔لیکن کی خدا کے معاملہ میں لوگ بڑے اطمینان سے دوسرے کی تائید کرنے لگ جائیں گے۔ایک جھوٹ بولے گا تو دوسرا اس کی تائید کرے گا۔یا قاضی کے سامنے معاملہ جائے گا تو بیٹا کہے گا کہ میرا باپ تو وہاں تھا ہی نہیں۔وہ تو فلاں جگہ تھا۔حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہوتا ہے۔جھوٹ کی تائید اس لیے کی جاتی ہے کہ خدائی ہتھکڑی کا خوف نہیں ہوتا۔اگر خوف ہوتا تو اس کے احکام کی کیوں اطاعت نہ کی جاتی۔غرض اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں نصیحت فرماتا ہے کہ كُونُوا مَعَ الصُّدِقِيْنَ تم اپنے آپ کو صادقوں اور راستبازوں میں شامل کرو اور ہمیشہ سچ بولو۔جب یہ روح کسی جماعت میں پیدا ہو جائے اور اس روح کا پیدا کرنا انسانوں کے اپنے اختیار میں ہے فرشتوں نے یہ چیز ا نہیں کرنی تو پھر اُس جماعت کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔اور یہ روح اسی صورت میں پیدا ہوسکتی ہے جب کچی گواہی دیتے وقت انسان، نہ اپنے باپ سے ڈرے، نہ اپنے بیٹے۔ڈرے، نہ ماں سے ڈرے، نہ بہن سے ڈرے، نہ بھائی سے ڈرے، نہ دوست سے ڈرے اور نہ کسی اور رشتہ دار سے ڈرے۔ایک باپ اگر جھوٹ کی جرات کرتا ہے تو اسی لیے کہ وہ سمجھتا ہے ، میرا بیٹا میری تائید کرے گا یا میری بیوی میری تائید کرے گی۔لیکن اگر عدالت میں معاملہ پیش ہو اور بیٹا کہے کہ یہ ہیں تو میرے باپ لیکن انہوں نے یہ بات کی ہے۔بیوی کہے کہ یہ ہیں تو میرے خاوند لیکن انہوں نے یہ بات کی ہے، تو دوسرے ہی دن وہ جھوٹ چھوڑ دے گا۔وہ اگر جھوٹ بولتا ہے تو اس لیے کہ اس کے افعال پر پردہ پڑا رہے۔بھائی اس لیے جھوٹ بولتا ہے کہ دوسرا بھائی اُس کی ہاں میں ہاں ملا دے گا، بیٹا اس لیے جھوٹ بولتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میرا باپ میری تائید کرے گا، خاوند اس لیے جھوٹ بولتا ہے کہ سمجھتا ہے کہ میری بیوی میرے عیب کو چھپالے گی اور میری تصدیق کرے گی ، بیوی اگر جھوٹ بولتی ہے تو اس لیے کہ وہ مجھتی ہے میرا خاوند میرا ساتھ دے گا۔لیکن اگر وہ سچے مسلمان ہوں اور كُونُوا