خطبات محمود (جلد 35) — Page 148
148 $1954 خطبات محمود اُس نیت اور ارادہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے سامان بہم پہنچایا اور وہ خدا تعالیٰ کو رضا کے وارث ہوئے۔پھر کچھ لوگ ایسے تھے جو اس مجلس میں تو آئے اُن کے کانوں میں کوئی کی آواز نہ پڑی۔اس پر بھی انہوں نے کہا کہ جب ہم نیک نیتی سے آئے ہیں تو چلو خواہ آواز ہمارے کانوں میں پڑے یا نہ پڑے ہم یہیں بیٹھے رہتے ہیں۔ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں سے کہا کہ یہ دین کی باتیں سننے کے لیے آئے تھے۔اگر انہیں آواز نہیں پہنچی تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔اس لیے جو کچھ سننے والوں نے فائدہ اُٹھایا ہے وہی اُن کو فائدہ پہنچا دیا جائے۔پھر کچھ لوگ ایسے تھے جنہیں آواز نہ آئی تو وہ اس مجلس سے اٹھ کر چلے گئے۔انہوں نے چونکہ میری مجلس سے منہ موڑ لیا اس لیے میں نے بھی اُن کی طرف سے منہ موڑ لیا۔تو بیشک بعض دفعہ انسان ایک کام کرتا ہے اور اس کا کوئی فائدہ محسوس نہیں کرتا مگر در حقیقت اسی قسم کی چیزیں ہیں جو انسان کے اندر اخلاقی مضبوطی پیدا کرتی ہیں اور وہ سمجھ ہے کہ جب بظاہر قربانی رائیگاں جا رہی ہو اُس وقت بھی انسان کو قربانیوں کے میدان میں ہمیشہ اپنا قدم آگے بڑھاتے چلے جانا چاہیے۔شریعت نے حج کے موقع پر جو قربانی رکھی ہے وہ اتنی کثرت کے ساتھ ہوتی ہے کہ عام لوگ یہاں اُس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔یہاں تو ہم عید کے موقع پر بکرے ذبح کرتے ہیں تو کئی دوستوں کی طرف سے شکایتیں آ جاتی ہیں کہ ہمیں بھول گئے۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ دوستوں کا حلقہ وسیع ہوتا ہے۔میرے ہاں بھی پانچ سات بکرے ذبح ہوتے ہیں اور پھر گائیں بھی ذبح ہوتی ہیں لیکن چونکہ تعلق والے بہت پھیلے ہوئے ہیں اس لیے اگر کسی کے ہاں گوشت نہ پہنچے تو وہ سمجھتا ہے کہ ہمیں مخلص نہیں سمجھا گیا۔پس ہم لوگ اُن قربانیوں کا اندازہ نہیں کر سکتے جو حج کے موقع پر کی جاتی ہیں۔جو لوگ حج کے بعد واپس آتے ہیں وہ بالکل اور تاثر لے کر آتے ہیں۔وہاں بکرے کو ذبح کرنے کے بعد اُس کے گوشت کے سنبھالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہاں ہزاروں بکرے ذبح ہو رہے ہوتے ہیں اور آدمی اتنا ہوتا نہیں جو اُن کا گوشت استعمال کر سکے۔ایسے موقع پر عموماً بدوی آ جاتے ہیں جو گوشت سکھانے کے لیے اُن بکروں کو گھسیٹ کر لے جاتے ہیں۔