خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 147

$1954 147 خطبات محمود نہیں کر سکتے۔دوسرے میں زیادہ بول بھی نہیں سکتا۔چنانچہ جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے ہر خطبہ کے بعد مجھے سردرد ہو جاتا ہے اور پھر نماز میں چونکہ بلند آواز سے تکبیریں کہنی پڑتی ہیں اور بعض نمازوں میں قرآن شریف کا بھی کچھ حصہ پڑھنا پڑتا ہے اور میرے لیے چھوٹی سی چھوٹی آواز نکالنا بھی مشکل ہوتا ہے اس لیے میں نمازوں میں نہیں آتا رہا۔لیکن باوجود اس کے کہ جماعت کے دوست بہت دور دور رہتے تھے اور میں بھی نمازوں میں نہیں آ سکتا تھا پھر بھی لوگ اخلاص اور عقیدت کے ساتھ بڑی کثرت کے ساتھ آتے رہے۔چونکہ جماعت میں بعض کمزور طبائع بھی ہوتی ہیں اس لیے ہو سکتا ہے کہ ایسے موقع پر وہ یہ خیال کر لیں کہ ہمیں وہاں جانے کی کیا ضرورت ہے جبکہ انہوں نے آنا نہیں۔اور اگر آئیں تو بیٹھنا نہیں۔ا صورت میں ہمیں اپنا وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اس کے مقابلہ میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہمارا وہاں جانا اپنی ذات میں ایسا فعل ہے جو ثواب کا مستحق بنا دیتا ہے۔یہ دونوں قسم کے گروہ ہیں جو عموماً جماعت میں ہوا کرتے ہیں۔وہ لوگ جو اُس گروہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جن کا یہ خیال ہے کہ وہاں جانے کا فائدہ کیا جبکہ وہ نمازوں کے لیے نہیں آتے اُن کو میں کچھ کہتا نہیں صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک واقعہ اُن کو سنا دیتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مسجد میں کھڑے تقریر فرما رہے تھے کہ ہجوم زیادہ ނ ہو گیا اور کناروں کے لوگ کھڑے ہو گئے کیونکہ جب کناروں پر لوگ کھڑے ہوں تو اُن ٹکرا کر آواز اکثر اونچی ہو جاتی ہے۔اُن دنوں لاؤڈ سپیکر تو ہوتے نہیں تھے کہ دور تک آواز پہنچ سکے۔بس یہی طریق تھا کہ تقریر کرنے والے کو اونچی آواز سے بولنا پڑتا تھا۔مگر پھر کچھ اور لوگ آ گئے اور وہ اُن کھڑے ہونے والوں کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔اُن تک رسول کریمی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں پہنچتی تھی۔کچھ دیر تو وہ کھڑے رہے لیکن آخر مایوس ہو کر اُن میں سے کچھ لوگ واپس چلے گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً اُن لوگوں کے حالات کی اطلاع دے دی اور آپ نے فرمایا اے لوگو! مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ کچھ لوگ اس مجلس میں ایسے آئے ہیں جنہیں میری باتیں سننے کا موقع ملا اور انہوں نے میری باتوں سے فائدہ اُٹھایا۔جس نیت اور ارادہ کے ساتھ وہ لوگ آئے تھے