خطبات محمود (جلد 35) — Page 149
$1954 149 خطبات محمود و ہمیں چونکہ احساس تھا کہ گوشت کو کسی نہ کسی طرح ضرور تقسیم کرنا چاہیے اس لیے ہم نے بعض لوگوں سے مل کر اس کی تقسیم کا انتظام کر لیا تھا مگر ادھر دنبہ پر چھری پھیری اور اُدھر میں نے دیکھا کہ بدوی اُس دنبہ کو گھسیٹتے چلے جا رہے ہیں اور قہقہے لگا رہے ہیں۔اسی وجہ سے جو لوگ یہ نظارہ دیکھ کر آتے ہیں وہ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اسلام نے یہ قربانی بغیر کسی حکمت کے رکھی ہے۔کیوں نہ اس روپیہ کے بدلہ میں کالج جاری کیے جائیں اور اس طرح قومی ترقی کے سامان کیسے جائیں۔فرض کرو پچاس ہزار بکرا ذبح ہوتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ پانچ لاکھ کا بکرا ذبح ہو جاتا ہے۔جو گا ئیں وغیرہ ہوتی ہیں اُن سب کو ملا کر انداز اسات آٹھ لاکھ روپیہ ان قربانیوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔پس لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ یہ روپیہ کی قربانیوں پر ضائع کیا جائے کیوں نہ اس کے بدلہ میں عربوں کی تربیت کا انتظام کیا جائے اور مکہ مکرمہ میں کالج اور سکول وغیرہ جاری کر دیئے جائیں۔میں ہمیشہ ان کو یہ جواب دیا کرتا کی ہوں کہ بعض دفعہ قوم پر ایسے اوقات بھی آیا کرتے ہیں جب اسے ایسی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں کی جو بظاہر بے فائدہ ہوتی ہیں۔اسی کی ٹریننگ کے لیے اسلام نے یہ سلسلہ جاری کیا ہے تا کہ ایسے مواقع پر خواہ انہیں کوئی حکمت نظر آئے یا نہ آئے وہ قربانی کرتے چلے جائیں۔بعض دفعہ کسی ملک میں ایک اکیلا شخص ہوتا ہے اور وہاں کی حکومت مذہب کے خلاف کوئی جابرانہ حکم دے دیتی ہے جس سے وہ اسلام کو مٹانا چاہتی ہے۔ایسی صورت میں اسلامی تعلیم کے مطابق وہ یہ نہیں کہے گا کہ جب قربانی کا کوئی فائدہ نہیں تو میں اپنے آپ کو کیوں قربان کروں؟ بلکہ وہ فوراً قربانی کے لیے اپنے آپ کو پیش کر دے گا کیونکہ جب تک وہ اپنے آپ کو قربان نہیں کرے گا دوسروں کے دلوں میں قربانی کی تحریک پیدا نہیں ہو گی۔وہ اگر پھانسی پر چڑھ جائے گا تو پھر کوئی دوسرا شخص پھانسی کے تختہ پر چڑھنے کے لیے نکل آئے گا وہ دوسرا شخص پھانسی دیا نگا تو تیسرا شخص نکل آئے گا اور اس طرح قدم بقدم تمام قوم میں ایسا جوش پیدا ہو جائے گا کہ وہ اسلام کی حفاظت کے لیے دیوانہ وار کھڑے ہو جائیں گے اور کفر کو شکست کھانے پر مجبور کر دیں گے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں دعوای فرمایا تو اُس وقت جن