خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 93

$1954 93 خطبات محمود ہو بیان پیش کریں۔لیکن پیشتر اس کے کہ حضرت ابوبکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچتے آپ نے حضرت عمرؓ کو مخاطب کر کے جواب دینا شروع کیا۔اُس وقت آپ کا چہرہ سرخ ہے گیا۔آپ نے فرمایا اے لوگو! تم کو کیا ہو گیا !! کہ جب تم سب میری اور اسلام کی مخالفت کرتے تھے اُس وقت صرف ابوبکر تھا جو میری تائید کیا کرتا تھا۔کیا تم اب بھی ہم دونوں کو دکھ دینے سے باز نہیں آتے۔حضرت ابو بکر یہ سن کر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت عمرانی پر ناراض ہوئے ہیں آگے بڑھے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہنا شروع کیا يَارَسُولَ اللہ غلطی میری ہی ہے۔آپ عمر پر خفا نہ ہوں۔2 اب دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قلوب کی کسی طرح صفائی کر دی تھی۔اگر تم میں سے کوئی شخص وہاں ہوتا تو وہ نہ صرف معافی نہ مانگتا بلکہ یہ کہتا يَا رَسُولَ الله ! آپ نے اس کے جرم کو کم سمجھا ہے۔اس نے ظلم زیادہ کیا تھا۔بیسیوں دفعہ میں نے دیکھا ہے کہ اگر ہم کسی شخص کو اُس کے مُجرم کی سزا دیتے ہیں تو دوسرے لکھتے ہیں کہ اس کا جرم تو بہت زیادہ تھا اسے جماعت سے خارج کیوں نہیں کر دیا گیا۔اس کو تو جماعت سے خارج کر دینا چاہیے تھا، اسے مرتد قرار دے دینا چاہیے تھا۔اس کو اس اس طرح پینا چاہیے۔اور ادھر یہ حالت ہے کہ ایک آدمی پر ظلم کیا جاتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی حمایت بھی کرتے ہی ہیں لیکن وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ آپ دوسرے شخص پر ناراض ہوں۔یا تو وہ اپنی براءت کرنے آیا تھا اور یا وہ یہ کہتا ہے کہ يَا رَسُولَ الله! قصور میرا ہی ہے۔یہ تغیر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیدا کیا بنوامیہ اور بنو عباس اپنے سارے روپیہ اور طاقت سے بھی پیدا نہ کر سکے۔اُس وقت کئی ایسے لوگ موجود تھے جنہیں بنو عباس اور بنوامیہ کی حکومتیں روپیہ دیتی تھیں لیکن وہ اندرونی طور پر ان کے دشمن تھے۔برا مکہ 3 کو دیکھ لو بنو عباس نے اس خاندان کو کتنی ہی عزت دی۔انہیں غلامی سے اُٹھا کر بادشاہ بنا دیا لیکن بنو عباس کی سلطنت کے خلاف برامکہ کے خاندان نے ہی سازش کی اور آخر ہارون الرشید کو مجبور ہو کر اس خاندان کے لوگوں کو قتل کرانا پڑا۔اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔آپ اپنے ماننے والوں کو یہی فرماتے تھے قربانیاں کرو۔چنانچہ وہ روپیہ دیتے تھے، قربانیاں کرتے تھے اور