خطبات محمود (جلد 35) — Page 92
$1954 92 خطبات محمود بعد میں نہیں ہوا۔اس طرح خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ جو کام ہوا ہے وہ طاقت، قوت اور آدمیوں نے کی کثرت کی وجہ سے نہیں ہوا۔اگر طاقت، قوت اور آدمیوں کے ذریعہ سے وہ کام ہوا تھا تو اب میں نے طاقت، قوت اور آدمیوں کو بڑھا کے دکھا دیا ہے لیکن کام پہلے کی نسبت بہت کم ہوا ہے۔جو تغیر انسانی قلوب، احساسات، جذبات اور نظم ونسق میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ہوا اور جو کام آپ کی جماعت نے کیا بعد میں بنوعباس اور بنوامیہ نے اس سے ہزاروں گنے زیادہ آدمیوں، طاقت اور قوت کے باوجود نہیں کیا بلکہ وہ لوگ اپنے آپ کو بھی نہ سنبھال سکے اور ایک دوسرے کو مارتے رہے۔کجا یہ حالت تھی کہ مسلمان سب ایک جتھا تھے اگر کسی وجہ سے کسی کے جذبات بھڑک اُٹھتے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے ایک لفظ نکلتا اور وہ سرد پڑ جاتے۔لیکن اب کسی کا پیر غلطی سے بھی دوسرے کے پیر پر پڑ جائے تو وہ کئی باتیں کرتا ہے اور کہتا ہے تمہیں تہذیب حاصل نہیں ؟ گجا وہ حالت تھی کہ ایک دفعہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر الڑ پڑے۔حضرت عمرؓ کی طبیعت سخت تھی۔انہوں نے حضرت ابوبکر کو سخت سست کہا اور پھر غصہ میں آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شکایت کرنے چلے گئے۔دوسرے لوگوں۔حضرت ابوبکر سے کہا عمر ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کرنے گئے ہیں۔و غصہ میں ہیں۔واقعہ انہیں سمجھ میں نہیں آیا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ پر ناراض ہو جائیں۔اس لیے آپ بھی جائیں۔پہلے تو آپ نے اس بات کی طرف دھیان نہ دیا۔آپ اپنے گھر تشریف لے گئے لیکن بعد میں خیال آیا کہ شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیال فرمائیں کہ سختی میں نے کی ہے۔چنانچہ آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں تشریف لے گئے اور دیکھا کہ حضرت عمر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہ ہہ رہے ہیں کہ آج مجھے سے ابوبکر پر کچھ سختی ہو گئی ہے۔اس خیال سے کہ شکایت نہ کر دیں۔میں پہلے ہی معافی مانگنے آ گیا ہوں۔حضرت عمرؓ نے بات ختم ہی کی تھی کہ آپ بھی مجلس میں جا پہنچے اور خیال کیا کہ میں بھی اپنی شکایت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کر دوں۔چنانچہ آپ نے آگے قدم بڑھائے تا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا