خطبات محمود (جلد 35)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 461

خطبات محمود (جلد 35) — Page 94

$1954 94 خطبات محمود سمجھتے تھے کہ آپ نے ان کو قربانی کا ارشاد فرما کر ان پر احسان کیا ہے۔آپ کا حکم سنتے ہی وہ اپنی جان اور مال قربان کر دیتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کو جسے اُس نے کھڑا کیا ہے یہ نظارہ دکھا دیا ہے تا اسے یہ خیال پیدا نہ ہو کہ اس نے جو وجاہت اور شان حاصل کی ہے وہ اس کے زور اور قوت بازو کے نتیجہ میں ہے۔وہ اپنی اس حالت کو دیکھیں اور غور کریں کہ جب وہ کمزور تھے تو ان کے کام کا کیا نتیجہ نکلا۔اور اب جبکہ وہ تعداد میں بھی بڑھ گئے ہیں اور ان کی کی مالی حالت بھی بہت ترقی کر گئی ہے ان کے کام کا کیا نتیجہ نکل رہا ہے۔پھر کوئی اور ترقی یافتہ قوم ہو تو تم کہہ سکتے ہو کہ اُن کے پاس وہ شان نہیں تھی لیکن یہاں تو یہ ہو رہا ہے کہ ایک وقت میں جو قوم کامیاب اور کامران تھی اُسی کی نسل اپنے اس کام میں ناکام ہو جاتی ہے جس میں ان کے ماں باپ بہت تھوڑے سامان کے ہوتے ہوئے کامیاب ہو گئے تھے۔اس سے پتا لگتا ہے کہ اُس وقت خدا تعالیٰ خود انہیں ترقی دے رہا تھا۔پس تم اپنے کاموں میں خدا تعالیٰ پر نظر رکھو، اُس کے سامنے جھکو، اُس سے دعا ئیں کرو۔مصائب جب آتے ہیں تو ان میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو مخفی ہوتے ہیں اُن کا کسی کو پتا نہیں ہوتا۔اسی رتن باغ میں میں نے بعض خطبے پڑھے تھے۔اگر تمہارا حافظہ ٹھیک ہے تو تمہیں یاد ہو گا جب تقسیم ملک کے وقت جماعت نے اچھا کام کیا تو سب طرف سے اس کی تعریفیں ہو رہی تھیں۔میں نے اُس وقت کہا تھا کہ تمہاری یہ تعریفیں جو اب ہو رہی ہیں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہیں گی۔یہی لوگ تمہاری مخالفت کریں گے۔اس لیے تم ان تعریفوں کو سن کرسُست نہ ہو جاؤ۔لیکن تمہارے دماغوں پر یہی اثر تھا کہ یہ لوگ ہماری تعریفیں کر رہے ہیں۔اگر ہم نے تبلیغ شروع کر دی تو یہی لوگ ہمارے مخالف ہو جائیں گے۔لیکن اس کے کی بعد وہ کچھ ہوا جس کا کسی کو خیال بھی نہ تھا اور جماعت کو پتا لگ گیا کہ ان تعریفوں کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔اصل تعریف وہی ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کرتا ہے۔جو تعریف خدا تعالیٰ کرتا ہے وہ قیامت تک جاتی ہے لیکن انسان آج خوشامد کرتا ہے اور کل گالیاں دینے لگ جاتا ہے۔میرے ہی زمانہ میں جماعت کے بعض لوگوں کو پانچ سات مرتبہ ٹھوکر لگی۔وہ لوگ خطبے سنتے تھے اور جھومتے تھے۔میرے ہاتھ چومتے تھے لیکن بعد میں انہیں ٹھوکر لگی