خطبات محمود (جلد 34) — Page 76
$1953 76 خطبات محمود یا بنی نوع انسان سے ہوں ان میں پہلا واسطہ رحمانیت سے ہوتا ہے۔رحمانیت خدا تعالیٰ کی وہ تی صفت ہے جس میں بغیر کسی کام اور استحقاق کے چیز مل جاتی ہے۔وہ چیز کسی نماز کے بدلہ میں نہیں ملتی کسی روزہ کے بدلہ میں نہیں ملتی کسی حج کے بدلہ میں نہیں ملتی ، کسی زکوۃ کے بدلہ میں نہیں ملتی بلکہ مفت ملتی ہے۔یہ مفت چیزیں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھی ملتی ہیں اور بندوں کی طرف سے بھی ملتی تھی ہیں۔اور تمام دنیا میں یہ قانون چل رہا ہے۔مثلاً ماں باپ مرتے ہیں تو بچے کو ورثہ ملتا ہے۔اب وہ کسی کام کے بدلہ میں نہیں ملتا بلکہ مفت ملتا ہے۔امیر ماں باپ کے بچہ کو ان کی امارت کے مطابق حصہ مل جاتا ہے اور غریب ماں باپ کے بچہ کو اُن کی غربت کے مطابق حصہ مل جاتا ہے۔مگر بہر حال ملتان ضرور ہے۔کروڑ پتی ماں باپ ہوں تو بچوں کو پندرہ پندرہ ہمیں نہیں لاکھ مل جائے گا۔غریب ماں باپ ہوں تو دو دو تین تین سو مل جائے گا۔اور زیادہ غریب ہوں تو دو دو تین تین روپے مل جائیں گے۔مگر بہر حال دو ملیں یاد و سولیس یا دو ہزارملیں یا اٹھتی ملے جو کچھ ملتا ہے مفت ملتا ہے۔اسی طرح اساتذہ پڑھاتے ہیں۔بے شک سکولوں کے اساتذہ تنخواہیں لیتے ہیں۔لیکن مسجدوں میں بیٹھ کر جو لوگوں کو تعلیم دیتے ہیں وہ بالکل مفت دیتے ہیں۔اس وقت آپ لوگ خطبہ سن رہے ہیں تو مفت سُن رہے ہیں۔ہم درس دیتے ہیں تو مفت دیتے ہیں۔اور پھر یہی نہیں کہ تمہاری مرضی ہے چاہے تم جمعہ اور درس میں آؤیا نہ آؤ بلکہ ہم مجبور کرتے ہیں کہ آؤ اور ہم سے فائدہ ی اٹھاؤ۔اور یہ فائدہ تمہارے کسی کام کے بدلہ میں نہیں ہوتا۔اسی طرح ہر مسجد میں خدا تعالیٰ کے ایسے کئی بندے بیٹھے ہوتے ہیں جو لوگوں کو دین کی باتیں سکھاتے ہیں۔بے شک کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو تنخواہیں لینے پر مجبور ہوتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو لا لچی ہوتے ہیں۔لیکن ایسے بھی ہوتے ہیں جو بغیر کسی اجرت کے خدا تعالیٰ کے تو کل پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔اس گرے ہوئے زمانہ میں بھی ہزاروں ایسے آدمی مل جائیں گے جو مساجد میں آکر نمازیں پڑھا دیں گے ، قرآن کا ترجمہ سکھا دیں گے ، موٹے موٹے اسلامی مسائل لوگوں کو بتا دیں گے اور کوئی اجرت نہیں لیں گے۔گویا دونوں طرف سے رحمانیت چل رہی ہوتی ہے۔اور ی اگر پڑھانے والے کچھ مالی فائدہ بھی اٹھا رہے ہوں تو ایک طرف سے رحمانیت اور ایک طرف سے رحیمیت جاری ہوتی ہے۔پڑھانے والا اس لیے پڑھاتا ہے کہ میں ان لوگوں کو فائدہ پہنچاؤں اور گزارہ دینے والا اس لیے دیتا ہے کہ یہ ہمارے فائدہ کا کام کر رہا ہے۔لیکن ہزاروں لوگ