خطبات محمود (جلد 34) — Page 77
$1953 77 خطبات محمود ایسے بھی ہیں جو ان کا موں کے بدلہ میں کوئی پیسہ نہیں لیتے۔وہ نمازیں پڑھائیں گے ، درس دیں گے ، مسائل اسلامیہ سے آگاہ کریں گے۔مگر کوئی اُجرت نہیں لیں گے۔اور یہی لوگ اعلیٰ مومن کی اور متقی امام ہوتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پیسے لینے جائز ہیں۔مگر کامل مومن وہی ہے جو تو کل پر آ بیٹھتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر خدا کسی کے دل میں تحریک پیدا کر دے گا تو وہ لے آئے گا میں نے نہیں مانگنا اور یہی اللہ تعالیٰ نے بسم اللہ میں ہمیں تعلیم دی ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کے یہ معنے ہیں کہ میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بغیر کسی محنت، کام اور بدلہ کے آپ ہی ہمیں اپنی نعمتیں عطا کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جتنی رحمانیت ظاہر ہوتی ہے بندوں کی طرف سے اتنی ظاہر نہیں ہوتی بندے کی رحمانیت نہایت ہی محدود ہے۔بچہ پیدا ہوتا ہے تو اُس کی کئی ضرورتیں ایسی ہوتی ہیں جو ماں باپ پوری ہی نہیں کر سکتے۔بچہ اندھا ہو جائے تو ماں باپ اُسے آنکھیں نہیں دے سکتے لنگڑا ہو جائے تو ماں باپ اُسے ٹانگ نہیں دے سکتے۔بہرہ ہو جائے تو ماں باپ اُسے کان نہیں دے سکتے۔لیکن خدا تعالیٰ کتنوں کو آنکھیں دے رہا ہے۔جن کو ان کے ماں باپ نے آنکھیں نہیں دیں۔جس کے کان نہیں ہیں اس کو اس کے ماں باپ کان نہیں دے سکتے۔لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ جس کے کان ہیں اُسے اس کے ماں باپ نے کان نہیں دیئے بلکہ خدا نے دیئے ہیں۔یہ بھی سچی بات ہے کہ جو شخص لنگڑا ہے اُس کے ماں باپ اسے ٹانگ نہیں دے سکتے مگر ویسی ہی سچی بات یہ بھی ہے کہ جو شخص ہاتھ پیر سلامت لے کر آیا ہے اُسے اُسکے ماں باپ نے ہاتھ پاؤں نہیں دیئے بلکہ خدا نے دیئے ہیں۔پس اس کا مقابلہ ماں باپ سے کرنا حماقت اور نادانی کی بات ہے۔ماں باپ اپنے بچوں کو روٹی کھلاتے ہیں۔تو بعض ماں باپ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ کسی وقت دے دیتے ہیں اور کسی وقت غربت کی وجہ سے نہیں دے سکتے۔اور پھر ماں باپ اگر بچوں کو کھانا کھلاتے ہیں تو ساتھ ہی ان سے کام بھی لیتے ہیں۔بے شک نوکری اس کا نام نہ رکھیں مگر سب ماں باپ گھروں میں اپنے بچوں سے کام لیتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ تو کوئی بھی کام نہیں لیتا اور دیتا چلا جاتا ہے۔کہتے ہیں راک فیلر 3 اربوں ارب کا مالک ہے۔مگر وہ اپنے سارے روپیہ سے ایک آنکھ تو لے دے۔سارے روپیہ سے ایک کان تو لے دے۔بلکہ آنکھ اور کان تو الگ رہے وہ اپنے سارے روپیہ -