خطبات محمود (جلد 34) — Page 75
$1953 75 خطبات محمود چنانچہ وہ کہتے تھے۔اَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهَا وَاحِدًا 2 ہمارے بہت سے معبود تھے۔مگر اس نے ان سب کو ایک بنا دیا ہے۔وہ یہ نہیں کہتے کہ یہ ایک خدا پیش کرتا ہے یا کہتا ہے کہ دنیا کا ایک ہی پیدا کرنے والا ہے۔بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس نے بہت سارے معبودوں کو اکٹھا کر کے ایک بنا دیا ہے۔گویا اُن کے نزدیک توحید کا پیغام لات، منات اور عزیٰ کو کوٹ کاٹ کر ایک کر دینا تھا۔اور ی وہ حیران ہوتے تھے کہ یہ کیا تعلیم ہے۔لیکن آج ہمارا چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی سمجھتا ہے کہ تو حید کیا تھی چیز ہے۔کیونکہ وہ لات اور منات اور عزیٰ کو جانتا ہی نہیں۔وہ پیدائش سے ہی سمجھتا ہے کہ ایک خدا ہے۔اور ایک چھوٹے بچے کے لیے بھی یہ اتنا حل شدہ مسئلہ ہے کہ اگر اُسے کہو کہ ایک نہیں بلکہ کئی خدا ہیں تو وہ ہنس پڑے گا کہ مجھے بیوقوف بناتے ہو۔لیکن ابو جہل کے سامنے جب یہ بات پیش کی جاتی تھی کہ خدا ایک ہے تو وہ بھی ہنس پڑتا تھا اور کہتا تھا کہ مجھے بیوقوف بنایا جارہا ہے۔گویا ہمارے بچہ کے نزدیک یہ کہنا کہ ایک سے زیادہ خدا ہیں اُسے بیوقوف بنانا ہے اور ابو جہل کے نزدیک یہ کہنا کہ زیادہ معبود نہیں بلکہ ایک ہی معبود ہے اُسے بیوقوف بنانا تھا۔تو بعد میں آنے والوں کے لیے ایک نئی ترتیب کی ضرورت پیش آتی ہے۔اس لیے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے پہلے سورہ فاتحہ رکھی ، پھر سورۃ بقرہ رکھی، پھر سورہ آل عمران رکھی ، پھر سورہ نساء رکھی۔نزول کی ترتیب اُن لوگوں کے مطابق تھی جو اُس زمانہ میں تھے اور بعد کی ترتیب آئندہ آنے کی والی نسلوں کی ضرورت کے مطابق ہے۔سورہ فاتحہ جو خدا تعالیٰ نے سب سے پہلے رکھی ہے۔اس کی پہلی آیت بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ہے۔کئی لوگ غلطی سے یہ مجھتے ہیں کہ بسم اللہ سورۃ کا حصہ نہیں۔حالانکہ بسم اللہ سورۃ کا حصہ ہے۔بلکہ ہر سورۃ کا حصہ ہے۔اور جب ہم کہتے ہیں کہ ہر سورۃ کا حصہ ہے تو اس سے کسی سورۃ کو بھی مستثنیٰ قرار نہیں دیتے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ سورہ تو بہ کا تو یہ حصہ نہیں۔سو اس کے متعلق یا درکھنا چاہیے کہ وہ مکمل سورۃ نہیں بلکہ سورۃ انفال کا ایک باب ہے۔اصل سورۃ سورۃ انفال ہی ہے۔مگر چونکہ وہ اس سورۃ کا ایک مہتم بالشان ٹکڑا تھا اسے نمایاں حیثیت دینے کے لیے اسے الگ کر دیا گیا۔اسی لیے اس پر بسم اللہ نہیں لکھی گئی۔کیونکہ در حقیقت وہ کوئی الگ سورۃ نہیں۔پس بسم اللہ قرآن کریم کی ہر مکمل سورۃ کا حصہ ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ نے بنی نور انسان کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تمام انسانی افعال یا تعلقات خواہ وہ خدا تعالیٰ سے ہوں