خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 376

خطبات محمود $1953 376 44 جلسہ سالانہ کے سلسلہ میں بعض ضروری اور اہم ہدایات (فرموده 25 دسمبر 1953ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔" آج میں کارکنان جلسہ سالانہ کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ بار بار کے تجربہ کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ ہر سال پہلے سے اچھا انتظام ہو اور پچھلے تجربہ سے فائدہ اٹھایا جائے۔خالی تجربہ کوئی چیز نہیں بلکہ اصل چیز تجربہ سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ورنہ دنیا میں کوئی انسان بھی ایسا نہیں جو ہر وقت تجربہ نہیں کر رہا۔جاہل سے جاہل انسان بھی دنیا میں زندگی بسر کرتا ہے تو کئی باتیں اُسے بار بار پیش آتی ہیں لیکن وہ اُن سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔پس کام کو متواتر کرنا مفید چیز نہیں بلکہ ہر دفعہ کام کرنے میں جو نقائص رہ جائیں اُن کو نوٹ کر لینا اور دوسری دفعہ انہیں دُور کرنا اصل کام ہے۔تم دیکھ لو مسلمانوں پر متواتر تباہیاں آئیں۔اُن کی حکومتیں تباہ ہوگئیں ان کے ملک تباہ ہو گئے اور یورپین قوموں نے انہیں کچل دیا۔اگر محض متواتر کام کرنا مفید ہوتا تو مسلمان اس سے سبق حاصل کرتے۔اور اگر بار بار کے تجربہ سے انسان تجربہ کار کہلاتا تو مسلمان اصلاح پذیر ہو جاتے۔لیکن ہوا یہ کہ جب کوئی ملک تباہ ہونے لگا اور غیر اقوام نے اُس پر حملہ کیا تو ہر مسلمان سلطنت نے یہ خیال کیا کہ وہ ہم پر حملہ آور نہیں ہورہا نتیجہ یہ ہوا کہ آہستہ آہستہ سب مسلمان حکومتیں