خطبات محمود (جلد 34) — Page 377
$1953 377 خطبات محمود تباہ کر دی گئیں۔جب انگریزوں نے ٹیپو سلطان کو ہلاک کرنا چاہا تو اُس نے سب مسلمان بادشاہوں اور رؤساء کو کہلا بھیجا کہ یہ حملہ صرف مجھ پر نہیں بلکہ باری باری تم سب پر ہوگا آؤ ہم سب مل کر ان کا ی مقابلہ کریں۔اگر ہم لڑتے ہوئے مر گئے تو بہادر کہلائیں گے اور ہماری حسرت بھی نکل جائے گی کہ ہم نے مقابلہ کر لیا۔لیکن کوئی مسلمان بادشاہ یا نواب اُس کی مدد کو نہ آیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ٹیپو سلطان کی مدد نہ باہر والوں نے کی اور نہ ملک کے اندر والوں نے کی۔وہ نیک شخص تھا اور بہادر تھا۔وہ اکیلا ہی لڑا لیکن اُس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ انگریزوں کا مقابلہ کر سکتا۔آخر اس نے مقابلہ کرتے ہوئے کی جان دے دی۔اور وہ ایک ہندو ریاست بنادی گئی۔پھر حیدر آباد پر قبضہ کر لیا گیا۔اب نہ وہ رہا اور نہ یہ، دونوں سلطنتیں مٹا دی گئیں۔پس بار بار کوئی کام کرنا مفید نہیں ہوتا۔بلکہ کسی چیز کے بار بار ہونے سے نتائج اخذ کرنا اور ان کے مطابق اپنی تدبیر کو بدلتے جانا مفید ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ دس جلسے ہو گئے ہیں۔اس لیے ہمیں تجربہ ہو گیا ہے تو یہ حماقت ہے۔اگر ایک سال کے جلسے سے بعض نتائج کو حاصل نہیں کیا گیا اور اُس کے نقائص کو نوٹ کر کے دوسرے سال انہیں دور نہیں کیا گیا اور پھر دوسرے سال کے نقائص کو نوٹ کر کے تیسرے سال ان کی اصلاح نہیں کی گئی تو کوئی تجربہ نہیں ہوا ، چاہے میں جلسے ہی کیوں نہ گزرجائیں۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ کل ایک دوست نے میرے پاس یہ شکایت کی ہے کہ اس سال کھانے میں خرابی ہو رہی ہے۔افسروں کے پاس شکایات لے کر جاتے ہیں تو وہ اس طرف توجہ نہیں کرتے۔اس دوست نے لکھا ہے کہ میں نے بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ یہاں تو کوئی شخص ہمیں پوچھتا نہیں ہم کل واپس چلے جائیں گے۔جس دوست نے یہ شکایت لکھی ہے وہ مخلص احمدی ہیں اور تعلیم یافتہ ہیں اور پھر جماعت کے ایک ذمہ وار کام پر مقرر ہیں۔لیکن بعض لوگوں کی جس زیادہ تیز ہوتی ہے۔وہ چھوٹی بات کو بڑا بنا لیتے ہیں۔ممکن ہے ان کی جس بھی تیز ہو اور ذکاوت حس کی وجہ سے وہ ایک چھوٹی بات کو بڑا سمجھ بیٹھے ہوں۔لیکن اگر اس دوست کی روایت ٹھیک ہے تو جس نے بھی ایسی بات کہی ہے مجھے اس سے کوئی ہمدردی نہیں۔ایک بیمار پر جس طرح رحم کیا جاتا ہے میں اُس پر رحم تو کر سکتا ہوں لیکن اُس کی تکلیف کی وجہ سے مجھے کوئی