خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 245

خطبات محمود 245 سال 1953ء کہ لوگوں تک خود پہنچا جائے اور ان کے حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کی جائے۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ ایک دفعہ ایک عورت میرے پاس آئی اور اس نے ی اپنے دکھ اور مصیبت کی داستان بیان کرنی شروع کی۔وہ بار بار کہتی کہ میں اس وقت سخت مصیبہ میں مبتلا ہوں۔اور میں آپ کے پاس اس لیے آئی ہوں کہ میں سمجھتی ہوں میری مصیبت کا علاج سوائے آپ کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔اگر آپ میری مدد کر دیں تو میں اس مشکل سے نجات حاصل کرلوں گی۔جب اُس نے اپنی مشکلات کا بار بار ذکر کیا تو میں نے چاہا کہ اُس سے پوچھوں کہ اُسے کتنی مدد کی ضرورت ہے۔میں نے سمجھا کہ شاید وہ سو ، دوسو یا تین سو روپیہ مانگے گی۔چنانچہ میں نے کہا مائی ! میں نے تمہاری بات تو سن لی ہے اب تم اپنی ضرورت بھی بیان کرو کہ تمہیں کتنی مدنی دی جائے ؟ اس پر اس نے کہا مجھے آٹھ آنے چاہیں۔اُس کا یہ جواب میری آنکھیں کھولنے والا تھا تی کہ اس دنیا میں ایسے غریب لوگ بھی موجود ہیں جنہیں اتنی معمولی مدد کے لیے بھی کئی منٹ تک اپنی مصیبت کی داستان بیان کرنی پڑتی ہے۔میں نے اُس وقت سمجھا کہ اُس کے دل میں ہماری شقاوت قلبی کا کتنا یقین ہے یہ ہمیں اتناشقی القلب سمجھتی ہے کہ خیال کرتی ہے کہ اتنی خطرناک حالت میں بھی کوئی شخص اُس کو آٹھ آنے دینے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔دوسری طرف اُس کی غربت کتنی بڑھی ہوئی تھی کہ اُسے آٹھ آنے کے لیے اتنی لمبی تمہید بیان کرنی پڑی۔غرض ایسے امور کا اندازہ انسان لوگوں سے مل کر ہی کر سکتا ہے۔اس لیے ہماری شریعت نے ہمارے لیے حج مقرر کیا ہے۔جس میں ساری دنیا کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔پھر عید میں مقرر کیں جن میں شہر اور اُس کے اردگرد کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔پھر جمعہ مقرر کیا ہے جس میں سارے شہر کی کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں۔لیکن جانے والے پھر بھی ان اجتماعوں سے بہت کم فائدہ اٹھاتے کی ہیں۔ہماری شریعت نے حکم دیا ہے کہ امراء اور قوم کے لیڈر جمعہ اور دوسری نمازیں خود پڑھایا کریں۔مرکز میں مقدم حق خلیفہ وقت کا ہے۔اگر وہ نہ ہو تو اُس کے نائب پڑھائیں ، ملک کے افسر پڑھائیں ، امراء اور لیڈران قوم پڑھائیں۔اس میں بھی بڑا مقصد یہی ہے کہ اجتماع میں جانے سے غرباء کی تکالیف نظر آجاتی ہیں۔اور پھر اُن کو دُور کرنے کے لیے اجتماعی رنگ میں کوشش کی جاسکتی ہے ہے۔جب تک کسی لیڈر کو اظہارِ خیال کا موقع نہیں ملتاوہ چپ کر کے واپس آ جاتا ہے اور لوگوں کی تکلیف کو