خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 244

خطبات محمود 244 سال 1953ء گھر بیٹھ کر اندازے لگانے والے کی ایسی ہی مثال ہوتی ہے۔جیسے کوئی شخص اپنے کنبہ کو لے کر دریا کے دوسری طرف جانے لگا تو کنارے پر بیٹھ کر پہلے اُس نے اربعہ 3 لگایا کہ دریا میں کتنا پانی ہوگا۔اس نے کنارے پر دیکھا کہ کتنا پانی ہے۔پھر دریا کی چوڑائی کا اندازہ کیا اور حساب لگا کر فیصلہ کری لیا کہ دریا میں اتنا پانی ہوگا۔حالانکہ دریاؤں میں عام طور پر کناروں پر چھوٹا پانی ہوتا ہے اور درمیان میں بڑا گہرا ہوتا ہے۔جب وہ اپنے کنبہ کو لے کر دریا میں داخل ہوا تو ابھی بمشکل اس کے نصف تک ہی پہنچا تھا کہ گہرا پانی آگیا اور اُس کا سارا کنبہ ڈوب گیا۔یہ دیکھ کر وہ باہر نکلا اور کنارے پر بیٹھ کر پھر حساب کرنے لگا اور جب وہی حساب نکلا جو پہلے نکل چکا تھا تو حیران ہو کر کہنے لگا کہ اربعہ تو جوں کا توں لگا ہے پھر کنبہ کیوں ڈوبا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خالی حسابوں سے کام نہیں چلا کرتا۔ضرورت ہوتی ہے کہ انسان واقعاتی دنیا کو بھی دیکھے۔اور اگر ہم واقعاتی دنیا کو دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم باہر نکلیں اور دیکھیں کہ لوگوں کا کیا حال ہے۔ہمارے لیے یورپ کی نقل کا کوئی سوال ہی نہیں۔ہمارے لیے پہلا سوال یہ ہے کہ کسی طرح سب لوگ چھتوں کے نیچے بیٹھ سکیں تا کہ وہ سردی گرمی سے بچ سکیں، بارش آئے تو محفوظ رہ سکیں ، سامان کو کمروں میں تالے لگاکر محفوظ کرسکیں۔اس کے بعد یہ سوال آئے گا کہ اتنی چوڑی سڑکیں ہوں اور اتنی کھلی گلیاں ہوں۔میں نے سنا ہے کہ اب حکومت کے افسر جمعہ وغیرہ میں جانے لگے ہیں جس سے انہیں لوگوں کے حالات کا کچھ نہ کچھ اندازہ ہونے لگا ہے۔ورنہ اگر بڑے افسر لوگوں سے نہ ملیں تو ان کی کی وہی حالت ہوتی ہے جو فرانس کی ایک ملکہ کے متعلق مشہور ہے جسے بعد میں لوگوں نے مشتعل ہو کر مار ڈالا۔وہ ایک دفعہ گزر رہی تھی کہ اُس نے دیکھا کہ ہزاروں ہزار آدمی جمع ہیں اور وہ شور مچان رہے ہیں۔روٹی روٹی ! ہزاروں کا اجتماع اور لوگوں کا شور سن کر وہ شہر گئی اور اُس نے پوچھا کہ یہ لوگ کیوں شور مچا رہے ہیں؟ اُس کے مصاحبوں نے بتایا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں کھانے کے لیے روٹی نہیں ملتی۔اُس نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگی کہ یہ بڑے بیوقوف لوگ ہیں اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا لیں۔اُس نے چونکہ حقیقی دنیا نہیں دیکھی تھی اور وہ خود کیک اور پیسٹریاں کھاتی تھی اس لیے اُس نے سمجھا کہ روٹی اور کیک پیسٹری یہ سب برابر کی چیزیں ہیں کبھی بیل گئی اور کبھی وہ ہل گئی۔یہی اُن لوگوں کا حال ہوتا ہے۔جو گھر بیٹھ کر دنیا کے حالات کا اندازہ لگاتے ہیں۔پس ضروری ہے