خطبات محمود (جلد 34) — Page 246
خطبات محمود 246 سال 1953ء دور کرنے کے لیے عملی رنگ میں کوئی جد و جہد نہیں کرتا۔لیکن اگر وہ مجلس میں جائے اور اُسے تقریریں کرنے کا موقع ملے تو اُس کے بعد اگر وہ غرباء کی تکالیف کو دیکھنے کے باوجود ان کے حالات کے متعلق کچھ بولے گا نہیں تو لوگوں میں اُس کے متعلق چہ مگوئیاں شروع ہو جائیں گی کہ اُس نے ہمارے حالات کو دیکھا مگر پھر بھی اُس نے کچھ نہیں کہا اور اگر اُن کی تکالیف کو دیکھ کر وہ کچھ بولے گا تو اُسے کچھ نہ کچھ شرم آئے گی اور وہ کوشش کرے گا کہ عملی رنگ میں بھی اُن کی مشکلات کو دُور کرنے کی کوشش کرے۔غرض وہ اگر کچھ نہیں کہے گا تو لوگوں میں اس کے خلاف شور پیدا ہوگا۔اور اگر کچھ کہے گا تو پھر اسے کچھ کرنا بھی پڑے گا۔مگر اب یہ نہیں ہورہا۔اب مولویوں کا حق سمجھا جاتا ہے کہ وہ نمازیں پڑھائیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امراء بہت کم نمازوں میں شامل ہوتے ہیں۔اور اگر کبھی مسجدوں میں آجائیں تو لوگوں کے لیے ایک عجوبہ سا بن جاتا ہے۔ایک غیر احمدی دوست ہیں۔وہ جلسہ سالانہ پر آئے تو انہوں نے اپنی ایک نظم سنائی جس میں یہ مضمون تھا کہ پاکستان کے گورنر جنرل اور روز یر اعظم نماز کے لیے آئے تو لوگوں نے اس کے طرح لپک لپک کر انہیں دیکھنا شروع کر دیا گویا نماز انہیں بھول گئی اور صرف ایک مقصد سامنے رہ گیا کہ کسی طرح وزیر اعظم یا گورنر جنرل انہیں مسکرا کر دیکھ لیں۔لیکن بہر حال کام کرنے سے ہی ہوتے ہیں۔اگر یہ طریق جاری رہے تو آہستہ آہستہ اس کے مفید نتائج بھی پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے۔اصل چیز یہی ہے کہ قوم کے سردار خود نمازیں پڑھانے کے لیے آگے آئیں۔مگر اب اس کو ایک پیشہ سمجھ لیا گیا ہے جو مولویوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا ہے۔اگر قوم کے سردار لوگوں کو نمازیں پڑھائیں تو جہاں نمازوں کے ذریعہ ایک طرف روحانیت پیدا ہوگی وہاں وہ قوم کی مشکلات اور اُس کی تکالیف کو دور کرنے میں حصہ لیں گے اور اس طرح دین اور دنیا دونوں کا ایک لطیف امتزاج ہو جائے گا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم غور کر کے دیکھیں تو جتنے بھی دنیوی کام ہیں ان میں اگر خدا تعالیٰ کا نام آجائے تو وہ دینی کام بن جاتے ہیں۔اور جتنے دینی کام ہیں ان میں دنیا کا بھی ایک حصہ رکھا تھا گیا ہے۔مثلاً ہم روٹی کھاتے ہیں، کپڑا پہنتے ہیں، جوتی بناتے ہیں، ہل چلاتے ہیں۔اب یہ سب دنیوی کام ہیں۔مگر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ ہر دنیوی کام سے پہلے بسم اللہ پڑھ لیا کرو -4۔اب اگر ہم اسی بسم اللہ کہہ کر روٹی کھاتے ہیں یاہل چلاتے ہیں یا کپڑا پہنتے ہیں یا جوتی بناتے ہیں تو یہ سارے دنیوی نام دینی بن جاتے ہیں۔اسی طرح جتنے دینی کام ہیں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو بھی سمویا ہوا ہے۔