خطبات محمود (جلد 34) — Page 231
$1953 231 خطبات محمود کیونکہ ہماری جماعت کے لوگ دوسروں سے حسن سلوک کرتے ہیں، ان سے نیک معاملہ کرتے ہیں، ان سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں، ان سے اچھے تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں اور ان کے بہی خواہ ہیں لیکن پھر بھی ان کی مخالفت ہوتی ہے۔آج ہی میں قادیان کی ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا جس میں لکھا تھا کہ ہم ایک باغیچہ میں گئے وہاں کچھ مہاجر بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے اور کچھ مقامی لوگ بھی وہاں بیٹھے تھے۔شروع شروع میں جب پاکستان سے ہندو اور سکھ مہاجر وہاں گئے تو چونکہ وہ بہت چڑے ہوئے تھے۔ور مسلمانوں کے سلوک سے تنگ تھے اس لیے وہ پاکستان یا مسلمانوں کی تعریف کسی مسلمان سے ئن نہیں سکتے تھے۔اور اگر کوئی تعریف کرتا تو اُس سے لڑ پڑتے اور کہتے کہ تو بڑا غدار ہے۔لیکن آہستہ آہستہ قادیان والوں کے حُسنِ سلوک کی وجہ سے لوگوں میں تبدیلی پیدا ہوئی۔چنانچہ اب ان کی مہاجرین میں سے بھی ایک حصہ ایسا ہے جو کبھی کبھی جماعت کی تعریف کر دیتا ہے۔بہر حال اس کی رپورٹ میں ذکر تھا کہ وہاں جو مہاجرین بیٹھے ہوئے تھے اُن میں سے بعض نے تعریف کی اور کہا ہے کہ احمدی بڑے اچھے ہیں اور یہ اپنے معاملات میں دوسرے مسلمانوں سے مختلف ہیں۔اُن کا اتنا کہنا تھا کہ ایک مقامی سکھ جو اپنے دل میں جوش دبائے بیٹھا تھا کھڑا ہو گیا اور اُس نے دس بارہ منٹ تک تقریر کی اور کہا کہ ان لوگوں کے ہم سے ایسے اچھے تعلقات تھے کہ جب سے یہ گئے ہیں ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ قادیان اور اس کے گردو نواح کی رونق ہی چلی گئی ہے۔ان لوگوں کے پاس طاقت کی اور یہ اگر چاہتے تو ہمیں تباہ کر سکتے تھے۔مگر اتنی طاقت کے باوجود ان لوگوں نے ہماری حفاظت کی اور ہمیں کسی قسم کا نقصان پہنچنے نہیں دیا۔چنانچہ واقعہ یہی ہے کہ گو بعد میں ہندوستانی حکومت غالب آگئی مگر سوال تو یہ ہے کہ اُس وقت کون سمجھتا تھا کہ گورداسپور کا ضلع اُدھر چلا جائے گا۔اُس وقت اگر ہمارے بھی وہی جذبات کی ہوتے جو ہندوؤں اور سکھوں کے تھے تو دس دس میل کے حلقہ میں ایک ہندو اور سکھ بھی نہ بچتا۔مگر ی ہم نے اُن کے مردوں اور عورتوں اور بچوں کی اُسی طرح حفاظت کی جس طرح ہم اپنے مردوں اور عورتوں اور بچوں کی حفاظت کرتے تھے۔اور نہ ہم نے زبان سے انہیں کوئی لفظ کہا ، نہ اُن کی دل شکنی کی اور نہ گالی گلوچ سے کام لیا۔بلکہ اگر ہمیں کسی احمدی کے متعلق ذرا بھی شکایت پہنچتی تو ہم