خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 230

$1953 230 27 27 خطبات محمود موجودہ ایام میں تمہیں خصوصیت کے ساتھ سلسلہ کی حفاظت اور عظمت کے لیے دعائیں کرنی چاہیں تشهد (فرموده 7 /اگست 1953ء بمقام ناصر آباد۔سندھ ) تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔آج بارش کی وجہ سے چونکہ راستے خراب ہیں اس لیے میں دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھاؤں گا۔اسی طرح میری طبیعت بھی خراب ہے اس لیے میں خطبہ بھی بہت مختصر پڑھاؤں گا۔اصل بات جس کے متعلق میں آج کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ عام طور پر ہماری جماعت کے لوگ اُن حالات سے واقف نہیں ہوتے جو جماعت کے خلاف ملک کے مختلف جہات کی اور اطراف میں یا مختلف ملکوں میں پیدا ہوتے ہیں۔چونکہ ایسی تمام اطلاعات مرکز میں آتی ہیں اور وہ اطلاعات نہ ساری شائع کی جاسکتی ہیں اور نہ ہی اُن سب کا شائع کرنا مناسب ہوتا ہے اس لیے صرف چند لوگ ہی ایسے ہوتے ہیں جو اُن سے واقف ہوتے ہیں۔اگر مصیبت آتی ہے تو انہی کے کندھوں پر آتی ہے اور اگر کوئی خوشی کی خبر آتی ہے تو اس سے بھی وہی لذت محسوس کرتے ہیں۔لیکن ایک چیز ایسی ہے جس کو جماعت کا ہر فرد سمجھ سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہماری جماعت کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے بتیس دانتوں میں زبان ہوتی ہے۔بظاہر اس کی کوئی دنیوی وجہ نہیں پائی جاتی