خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 232

$1953 232 خطبات محمود سختی سے اُس کے پیچھے پڑ جاتے۔دوسری طرف جو لوگ ارد گرد کے مقامات سے بھاگ بھاگ کر قادیان میں آئے ہم نے اُن کی اتنی خاطر تواضع کی کہ سارے ہندوستان میں اس کی مثال نہیں ملا سکتی۔ہم نے اپنے آدمیوں کو بُھو کا رکھا اور اُن کو کھانا کھلایا۔اور ایک دن تو ایسا آیا کہ ہم نے ساتھ ہزار آدمیوں کو کھانا دیا۔حالانکہ قادیان کی کل سولہ ہزار کی آبادی تھی۔جس میں سے تیرہ ہزار احمدی تھے۔مگر وہی لوگ جب یہاں پہنچے تو کچھ مدت تک تو احمدیوں کی تعریفیں کرتے رہے مگر اب وہی ہے لوگ احمدیوں کو کشتی اور گردن زدنی قرار دے رہے ہیں۔اور وہ سارے احسان اور سلوک جو ہم نے اُن سے کیسے تھے اُن کو بُھلا بیٹھے ہیں۔امرتسر کے شہر پر مصیبت آئی تو کئی دفعہ ہم نے غلہ مہیا کیا اور جو لوگ قومی کام کر رہے تھے۔ان کو رقمیں بھی دیتا رہا۔چنانچہ پارٹیشن تک باقاعدہ کئی ہزار روپیہ ہم نے اُن کو دیا۔مگر اب وہی لوگ احمدیت کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔اور کہتے ہیں کہ احمدیوں کو مار دینا چاہیے ، ان کو قتل کی کر دینا چاہیے ، ان کے مال و اسباب کو لوٹ لینا چاہیے۔یہ چیز تو آپ لوگوں کو نظر آتی ہے۔بے شک جو سلسلہ کی مخالفت کی خبریں ہمیں ملتی ہیں وہ آپ لوگوں کو نہیں ملتیں ، جو سلسلہ کی ترقیات کی ہے خبریں ہمیں ملتی ہیں وہ آپ لوگوں کو نہیں ملتیں۔مگر یہ بات تو آپ لوگوں سے مخفی نہیں کہ لوگ بلا وجہ اور ی بغیر کسی قصور کے ہم سے دشمنی رکھتے ہیں۔گواگر ہم زیادہ غور کریں تو اس کی ایک وجہ بھی موجود ہے۔اور وہ یہ کہ لوگ دیکھتے ہیں کہ خدا نے ان لوگوں کو اچھے عقیدے دیئے ہیں ، خدا نے ان کے اندرا خلاص پیدا کیا ہے، خدا نے ان کے اندر قربانی کا مادہ پیدا کیا ہے، خدا نے ان کو کام کرنے کی ہمت بخشی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ بڑھتے چلے جائیں گے اور ہم گھٹتے چلے جائیں گے۔جب دشمن دیکھتا ہے کہ یہ لوگ بڑھنے والے ہیں اور ہم گھٹنے والے ہیں۔تو وہ مخالفت پر اُتری آتا ہے۔پس اس مخالفت کی ایک نفسیاتی وجہ تو موجود ہے لیکن جسمانی وجہ کوئی نہیں۔دنیوی لحاظ سے ہماری جماعت کا سلوک لوگوں سے اتنا اچھا ہے کہ اگر وہ تعصب سے علیحدہ ہو کر ہماری جماعت کو دیکھتے تو بجائے مخالفت کرنے کے وہ احمدیوں کے ہاتھ چومتے اور ان کی خدمت میں فخر محسوس کرتے۔بہر حال یہ ایسی بات ہے جس کا ہر احمدی کو پتا ہے اور جب پتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ وہ