خطبات محمود (جلد 34) — Page 219
$1953 219 خطبات محمود نے فرمایا تھا کہ بہت اچھا ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔) میاں نظام الدین صاحب نے اس واقعہ کو ان کے کے سامنے دہرایا اور کہا کہ اس بحث کو بند کیجئے اور جلدی سے مجھے قرآن کریم کی دس آیتیں ایسی لکھا کر دے دیجئے۔میں مرزا صاحب کو شاہی مسجد میں لا کر سب کے سامنے ان سے تو بہ کرواؤں گا۔اب ایک جس کا سارا فخر ہی اس بات پر تھا کہ نورالدین قرآن کی طرف جاتا تھا مگر میں اُسے حدیثوں کی طرف لانا چاہتا تھا اور آخر میں نے اُسے اس طرح رگیدا اور مروڑا اور گرایا اور پچھاڑا کہ وہ حدیث کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا اُس کے لیے اُسی مجلس میں یہ بات بم کا ایک گولہ ثابت کی ہوئی۔مولوی محمد حسین صاحب نے بڑے غصہ سے میاں نظام الدین صاحب کی طرف دیکھا اور کہا ! تمہیں کس احمق نے کہا تھا کہ تم اس بحث میں گو دپڑو؟ میں تین ہفتے سے بحث کر کر کے نورالدین کو حدیث کی طرف لایا تھا۔تو پھر اس بحث کو قرآن کی طرف لے گیا۔اب غصہ سے یہ فقرہ تو اُن کے کی منہ سے نکل گیا مگر ایک سچے مومن کے لیے یہ فقرہ ایک تازیانہ سے کم نہیں تھا۔میاں نظام الدین کے صاحب یہ بات سنتے ہی سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور دو تین منٹ تک خاموش بیٹھے رہے۔پھر اُٹھے اور کہنے لگے اچھا مولوی صاحب ! سلام ! جدھر قرآن ہے اُدھر ہی ہم ہیں۔اور یہ کہہ کر وہاں سے واپس آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی۔اب دیکھو ان کو قرآن پر اعتبار تھا اس لیے وہ قرآن کے پیچھے چل پڑے۔اہلِ حدیث کو ی حدیث پر اعتبار ہوتا ہے جب ان کے سامنے کوئی بات حدیث سے ثابت کر دی جائے تو وہ فوراً اس کے کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ایک دوسرے مومن کو قرآن پر اعتبار ہوتا ہے۔جب اس کے سامنے کوئی بات قرآن سے ثابت کر دی جائے تو وہ فورا اس کو ماننے لگ جاتا ہے۔بعض لوگوں کو کسی تجربہ کار انسان پر اعتماد ہوتا ہے اس لیے جو کچھ وہ کہتا ہے اُسے وہ بلا دریغ ماننے لگ جاتے ہیں۔بعض کو کسی نیک انسان پر اعتماد ہوتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ وہ ایک کام کر رہا ہے تو وہ بھی ویسا ہی کام کرنے کی لگ جاتے ہیں۔تم بھی اپنی زندگیاں ایسی بناؤ کہ سب لوگ تمہارے متعلق یہ کہیں کہ یہ لوگ جھوٹ کی نہیں بولتے ، یہ دھوکا اور فریب نہیں کرتے ، نیکی اور پاکیزگی میں اپنی عمر بسر کرتے ہیں۔اگر تم اپنے متعلق لوگوں کے دلوں میں یہ اعتماد پیدا کرلو تو نہ کوئی حکومت کسی کو تمہارے پاس آنے سے روک سکتی ہے، نہ کوئی پارٹی تمہاری آواز کو دبا سکتی ہے ، نہ لوگوں کے باہمی معاہدات تمہیں کوئی