خطبات محمود (جلد 34) — Page 220
$1953 220 خطبات محمود نقصان پہنچا سکتے ہیں۔محض زبانی تبلیغیں اُن کے لیے ضروری ہوتی ہیں جن کے عمل مشتبہ ہوں۔زبانی تبلیغیں اُن کے لیے ضروری ہوتی ہیں جن کے اندر رشد اور ہدایت پر قائم رہنے والے آدمی موجود نہ ہوں۔زبانی تبلیغیں ان کے لیے ضروری ہوتی ہیں جن کے اندر خدا تعالیٰ کے انوار موجود نہ ہوں۔جن کے ساتھ خدا کا تعلق ہو ، جو اپنے نیک نمونہ سے لوگوں کے دلوں کو گھائل کر چکے ہوں ، جو اپنی نیکی اور تقویٰ کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد حاصل کر چکے ہوں ، جو اٹھتے اور بیٹھتے شرافت کی اور دیانت کا ایک مجسمہ ہوں اُن کا ہر قدم تبلیغ ہوتا ہے۔اُن کا ہر لفظ تبلیغ ہوتا ہے، اُن کی ہر حرکت تبلیغ ہوتی ہے۔اُن کا ہر سانس تبلیغ ہوتا ہے۔اور دنیا کی کوئی طاقت لوگوں کو اُن کے نیک اثر سے محروم نہیں کر سکتی۔وہ لوگ جو ان کی بات سننا تک گوارا نہیں کرتے ، وہ لوگ جو ان کی شکل دیکھ کر بھاگنا چاہتے ہیں وہ بھی ان کے نمونہ کو دیکھ کر ان کے پاؤں پکڑ کر برکت حاصل کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔پس اپنے نمونہ اور عمل سے اپنے آپ کو ایسا بناؤ کہ تم اپنی ذات میں ایک مجسم تبلیغ بنا جاؤ۔جس طرح سورج کو دیکھنے کے بعد انسان کے لیے کسی دلیل کی احتیاج باقی نہیں رہتی۔اسی طرح جب کوئی شخص تم کو دیکھ لے تو وہ یہ یقین ہی نہ کرے کہ مرزا صاحب جھوٹے تھے۔تم اپنی وہی ہے حالت بناؤ جو حضرت منشی اروڑے خان صاحب مرحوم کی تھی۔ایک دفعہ لوگ ان کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب یہاں آئے ہوئے ہیں آپ بھی چل کر اُن سے بات کی کریں۔منشی اروڑے خان صاحب کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کے دعوی سے بھی پہلے کے تعلقات تھے۔جب وہ ان کی مجلس میں گئے تو مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف پانچ دس منٹ تک تقریر کی اور بتایا کہ فلاں فلاں دلیل سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب سچے نہیں تھے۔منشی اروڑے خان صاحب ان کی تقریر سنتے رہے۔جب وہ خاموش ہوئے تو کہنے لگے مولوی صاحب ! بات اصل میں یہ ہے کہ آپ نے کی مرزا صاحب کو نہیں دیکھا اور میں نے آپ کو دیکھا ہوا ہے۔وہ منہ جھوٹوں والا نہیں تھا۔انہوں نے پھر پانچ دس منٹ تقریر کی اور آپ کے خلاف اور دلیل پیش کی۔جب وہ تقریر کر کے بیٹھ گئے تو منشی اروڑے خان صاحب نے پھر کہا مولوی صاحب ! آپ مجبور ہیں کیونکہ آپ نے مرزا صاحب کو