خطبات محمود (جلد 34) — Page 218
$1953 218 خطبات محمود کہ اس طرح تو بلا وجہ وقت ضائع ہو رہا ہے۔کسی نہ کسی بات کا فیصلہ ہونا چاہیے تا کہ اصل بحث شروع ہو۔چنانچہ انہوں نے حضرت خلیفہ اول سے کہا کہ کیا آپ کوئی بھی حدیث ماننے کے لیے تیار ہیں یا نہیں ؟ حضرت خلیفہ اول نے اس جھگڑے کو نپٹانے کے لیے کہا کہ اچھا قرآن کے علاوہ اگر آپ بخاری پیش کرنا چاہیں تو وہ بھی پیش کر سکتے ہیں۔اب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بڑے خوش ہوئے کہ میں نے اپنی بات آخر منوالی۔وہ اہلِ حدیث تھے اور طبعا انہیں اس بات پر خوشی ہونی چاہیے تھی کہ اور نہیں تو کم از کم بخاری کو پیش کرنا تو انہوں نے تسلیم کر لیا ہے۔وہ چینیاں والی مسجد کے امام بھی تھے۔ایک دن مسجد میں بیٹھے بڑے فخر سے بیان کر رہے تھے کہ نورالدین سارے ہندوستان میں مشہور ہے اور بڑا عالم فاضل بنا پھرتا ہے۔لیکن میرے مقابلہ میں آیا تو اُسے اپنے گھٹنے ٹیک دینے پڑے۔وہ کہتا تھا کہ صرف قرآن سے اس مسئلہ پر بحث کرو حدیث کی طرف آنے کا وہ نام نہیں لیتا تھا۔میں بار بارا سے اس طرف لا تا مگر وہ ادھر آنے کا رُخ ہی نہیں کرتا تھا۔آخر اس نے یوں بھاگنے کی کوشش کی اور میں نے اسے یوں پکڑا۔پھر اس نے اس طرح بچنے کی کوشش کی اور میں نے اسے یوں رگیدا۔پھر اس نے یہ بہانہ بنایا اور میں نے اسے یوں گردن سے مروڑا۔اور آخر میں نے اُس سے منوالیا کہ قرآن کے علاوہ بخاری بھی پیش کی جاسکتی ہے ہے۔جب وہ بڑے زور سے یہ بیان کر رہے تھے کہ میں نے نورالدین کو یوں رگیدا اور اس طرح رگڑا انا اور اس طرح چاروں شانے چت گرایا تو ان کی بدقسمتی سے عین اُسی وقت میاں نظام الدین صاحب وہاں جا پہنچے اور بے تکلفی سے مولوی صاحب سے کہنے لگے کہ مولوی صاحب ! میں نے آپ کو بڑا بے سمجھایا ہے کہ آپ جوش میں نہ آیا کریں مگر آپ پھر بھی جوش میں آجاتے ہیں۔بھلا نورالدین کا اس میں کیا دخل ہے۔میں قادیان گیا تھا اور میں مرزا صاحب سے منوا آیا ہوں کہ اگر میں قرآن کریم کی دس آیتیں ایسی لے آیا جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات ثابت ہوتی ہو۔تو وہ میرے ساتھ شاہی مسجد میں آکر اپنے عقیدہ سے تو بہ کر لیں گے۔اور سب لوگوں کے سامنے ہے اس بات کا اقرار کر لیں گے کہ میں جو کچھ کہا کرتا تھا وہ غلط تھا۔( انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سے ملتے وقت یہ بھی کہا تھا کہ اگر میں قرآن کریم سے دس آمیتیں ایسی لے آیا تو آپ کو میرے ساتھ شاہی مسجد لاہور میں چل کر اپنے عقیدہ سے تو بہ کرنی پڑے گی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام