خطبات محمود (جلد 34) — Page 190
$1953 190 خطبات محمود ہوا ہے یا حرام ذرائع سے اُس وقت تک نہ اُس کالا اِلهَ إِلَّا اللہ کہنا اُسے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہے نہ احمدی کہلا نا اسے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔نہ حنفی سنی، شیعہ، چکڑالوی یا اہلحدیث کہلا کر وہ خدا تعالیٰ کو خوش کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ اُسی وقت خوش ہوگا جب وہ اپنے پیٹ میں حلال روزی ڈالے گا۔اگر وہ دھوکا بازی کے ساتھ روپیہ کماتا ہے اور حرام روٹی اپنے پیٹ میں ڈالتا نی ہے تو اُس کا یہ سمجھنا کہ اس کے نتیجہ میں وہ نیک اعمال بجالا سکے گا بالکل غلط ہے۔لیکن اگر وہ حلال روزی کھائے گا تو اس کے نتیجہ میں اسے نیک اعمال کی بھی توفیق مل جائے گی۔یعنی اس کے بعد اگر وہ سنوار کر نماز پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔اگر وہ احتیاط کے ساتھ روزہ رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے۔اگر وہ شرائط کے مطابق زکوۃ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔یہ نہیں کہ آپ ہی آپ اُس سے یہ اعمال صادر ہونے شروع ہو جائیں گے۔آپ ہی آپ کی کوئی عمل ظاہر نہیں ہو سکتا۔صرف ان کے لیے ایک رستہ کھل جاتا ہے۔پس اس کے یہ معنے نہیں کہ اگر ایک ہند و حلال روزی کھائے گا تو وہ نماز پڑھنے لگ جائے گا۔یا ایک سکھ حلال روزی کھائے گا تو وہ روزہ رکھنا شروع کر دے گا۔یا ایک عیسائی حلال روزی کھائے گا تو وہ ذکر الہی کرنے لگ جائے گا۔بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ ان نیکیوں کا رستہ اس کے لیے کھل جائے گا۔اگر وہ نماز اور روزہ اور ذکر الہی کو اختیار کرنا چاہے گا تو ان نیکیوں کی اُسے توفیق مل جائے گی۔لیکن اس کے بغیر وہ عمل صالح کی امید رکھے تو اُس کی یہ امید پوری نہیں ہو سکتی۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ اس گر کو اچھی طرح سمجھ لے۔کمیونسٹوں نے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ دنیا میں سب پیٹ کا ہی دھندا ہے۔چنانچہ کی ہندوستان کے جس مزدور اور کسان سے بھی بات کرو۔وہ یہی کہے گا کہ اور باتوں کو جانے دو۔دنیا میں تو اصل چیز پیٹ کا دھندا ہے۔اگر کمیونسٹ ایک بات کو بار بار رٹنے سے اس قدر پھیلا سکتے ہیں تو تم سمجھ سکتے ہو کہ اگر خدا کی بات کو رٹنا شروع کر دیا جائے تو وہ کیوں نہیں پھیلے گی۔اور قرآن کی یہ کہتا ہے کہ جس کے پیٹ میں حلال رزق جائے گا وہی دنیا میں عمل صالح بجالا سکے گا۔اگر ہم اپنی باتوں میں اور خطبات میں اور تقاریر میں اور آپس کے لین دین میں یہی فقرہ دُہرانا شروع کر دیں تو دنیا اس کی قائل ہو جائے گی۔لوگ پوچھا کرتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ سے کس طرح محبت کریں