خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 189

$1953 189 خطبات محمود قرآن کریم نے اس لیے دی ہے کہ عام طور پر مذہب اور بے ایمانی کو لوگ متضاد نہیں سمجھتے۔چھوٹے چھوٹے لالچوں کی وجہ سے بے ایمانی پر اتر آتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے کچھ ی بے ایمانی کر لی تو اس میں کیا حرج ہے۔بلکہ وہ فخر کے ساتھ اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں چالا کی کی۔اور بعض دفعہ تو وہ ایسے بیوقوف ہوتے ہیں کہ دین کے نام پر چالا کی کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اگر ہماری اس چالا کی یا دھوکا بازی کے نتیجہ میں دین کو فائدہ کی پہنچ جائے تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔مجھے حیرت ہوئی جب اسی سفر میں مجھے معلوم ہوا کہ یہاں کی ایک جماعت کے نمائندوں نے جماعت کی خاطر بے ایمانی کی ہے تا کہ اس بے ایمانی کے نتیجہ میں جماعت کو فائدہ حاصل ہو۔مجھے جب یہ بات معلوم ہوئی تو میں نے کہا کہ اس صورت میں تو مسیح موعود مومنوں کے مسیح موعود نہ ہوئے بلکہ نعوذ باللہ ڈاکوؤں اور چوروں کے امام ہوئے۔اگر ہمارے سلسلہ اور نظام نے بھی بے ایمانی سے روپیہ کمانا ہے تو پھر یہی کہنا پڑے گا کہ مسیح موعود ڈاکوؤں اور چوروں کے امام ہیں۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک چازاد بھائی تھے جنہوں نے چوہڑوں کے پیر ہونے کا دعوی کر دیا تھا۔اس طرح ہمیں کہنا پڑے گا کہ مسیح موعود علیہ السلام نے کوئی نیک جماعت پیدا نہیں کی بلکہ دھوکا بازوں کی جماعت پیدا کی ہے۔اس سے تم اندازه ی لگا سکتے ہو کہ وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف اپنے آپ کو ایسے مقام پر کھڑا کرتا ہے جس مقام پر کھڑا ہونے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت بھی لوگوں کی نگاہ میں مشتبہ ہو جاتی ہے وہ کتنا بے ایمان اور دشمن اسلام ہے۔اگر یہ خدا کا سلسلہ ہے تو اس کے لیے حرامخوری کی کیا ضرورت ہے اور اگر یہ خدا کا سلسلہ نہیں تو پھر چاہے ساری دنیا کی حرام خوریاں کر لو اس سے اس سلسلہ کو کیا فائدہ پہنچ جائے گا۔یا درکھو کمیونزم کی طرح اسلام نے بھی اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ اصل سوال پیٹ کا ہے۔مگر کمیونزم تو یہ کہتی ہے کہ جس نے پیٹ بھر اوہی ہما را نجات دہندہ ہے۔اور قرآن یہ کہتا ہے کہ جس نے اپنے پیٹ میں حلال ڈالا وہی ہمارا بندہ ہے۔اور اس کے نتیجہ میں اس کے لیے نیکیوں کی کے رستے کھلتے ہیں۔جب تک وہ اس امر کی پروا نہیں کرتا کہ اُس کا رزق حلال ذرائع سے کمایا ای