خطبات محمود (جلد 34) — Page 178
$1953 178 خطبات محمود تحقیقات کرنا چاہیں تو بے شک تحقیقات کریں۔غرض زندہ قوموں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس کی کے افراد کے اندر اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو۔ہم نے ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کرنی ہے۔اور جہاں ہم تبلیغ اسلام کریں گے وہاں لازماً مساجد بھی بنانی پڑیں گی اور اسلام کے نشانات بھی قائم کئے جائیں گے اور یہ کام ہماری جماعت کے افراد نے ہی کرنا ہے۔اس لیے سب کا فرض ہے کہ خواہ وہ امیر ہوں یا غریب اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے اپنے آپ کو ہر وقت تیار رکھیں۔لیکن اگر ہر شخص چودھری بن جائے اور یہ کہے کہ یہ کام دوسروں نے ہی کرنا ہے میں نے نہیں کرنا تو یہ کام کس طرح ہوگا۔پس اپنے اندر قربانی کا مادہ پیدا کرو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہر وقت زندہ رکھو۔مسلمان صرف چھ سات سو تھے جب ان کی قربانیوں سے ساری دنیا گونج اٹھی تھی۔یا کم سے کم عرب کا علاقہ گونج گیا تھا۔اور پھر جب وہ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں ہو گئے تو ساری دنیا ان کی قربانیوں سے گونج اٹھی۔تو اب تو ساٹھ کروڑ مسلمان ہے لیکن دنیا پھر بھی اسلام سے نا واقف ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ آج ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ اسلام کی اشاعت کی ذمہ داری ہے دوسروں پر ہے اُس پر نہیں۔لیکن جب وہ ہزاروں یا لاکھوں کی تعداد میں تھے تو ہر فرد کے دل میں یہ احساس تھا کہ اسلام کو میں نے ہی پھیلانا ہے۔یہی حال آج ہماری جماعت کا ہے۔ہماری جماعت کی تعداد تھوڑی ہے۔لیکن اسلام کی اشاعت کی ذمہ داری اس نے اپنے اوپر عائد کی ہوئی ہے۔اور اسلام کی اشاعت یا مبلغوں کے ذریعہ ہوگی اور یا مساجد کے ذریعہ ہوگی۔غیر ممالک میں مساجد کے پاس سے جب بھی گزرنے کی والے گزریں گے سوال کریں گے کہ یہ کیا عمارت ہے؟ اس پر لوگ انہیں بتائیں گے کہ یہ مسجد ہے؟ وہ پوچھیں گے کہ مسجد کیا چیز ہوتی ہے؟ اس پر انہیں بتایا جائے گا کہ جیسے عیسائیوں میں گرجے ہوتے ہیں اسی طرح مسلمانوں نے اپنی عبادت کے لیے مسجد میں بنائی ہوئی ہیں۔اور چونکہ مسجد ان کے لیے ایک بالکل نئی چیز ہوگی وہ اس کے دیکھنے کی طرف مائل ہو جائیں گے۔کیونکہ انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ کوئی نئی چیز آجائے تو لوگ اُس کو دیکھنے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔آخر یہ تماشا گا ہیں اور سیر گاہیں جن میں لوگوں کا ہر وقت ہجوم رہتا ہے یہ کیا چیز ہیں اور کیوں ان کی طرف لوگ کھچے چلے جاتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ یہ ایک نئی چیز ہوتی ہیں۔آدمی وہی ہوتے ہیں،