خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 179

$1953 179 خطبات محمود گھوڑے وہی ہوتے ہیں، شیر، چیتے وہی ہوتے ہیں۔لیکن سرکس آ جائے تو سب لوگ اُسے دیکھنے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔کیونکہ اُن کے کانوں میں یہ آواز پڑتی ہے کہ سرکس میں گھوڑے پر کھڑے ہو کر اُسے دوڑایا جاتا ہے۔اور چونکہ یہ نئی چیز ہوتی ہے اس لیے لوگ اس کے دیکھنے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔یہاں تک کہ سرکس جب گاؤں میں چلے جاتے ہیں تو لوگ اُس کو دیکھنے کے لیے اپنے برتن تک بیچ ڈالتے ہیں۔یا مثلاً تھیٹر کو ہی لے لو۔آدمی وہی ہوتے ہیں مگر انہوں نے کسی کا نام ہریش چندر رکھا ہوا ہوتا ہے۔کسی کا نام سکندر رکھا ہوا ہوتا ہے۔کسی کا نام دارا رکھا ہوا ہوتا ہے، کسی کا نام بابر رکھا ہوا ہوتا ہے اور وہ ایک کھیل کھیلتے ہیں۔چونکہ یہ دیکھنے والوں کے لیے ایک نئی چیز ہوتی ہے اس لیے وہ تھیٹر دیکھنے کے لیے بیتاب ہو جاتے ہیں اسی طرح جب مسجد کے پاس سے گزرنے والا شخص پوچھتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟ اور اُسے بتایا جاتا ہے کہ یہ مسلمانوں کی مسجدی ہے تو وہ حیران ہو کر دریافت کرتا ہے کہ مسجد کیا ہوتی ہے اس پر لوگ اسے بتاتے ہیں کہ جیسے گر جاتی میں تم لوگ جمع ہو کر عبادت کرتے ہو اسی طرح مسلمان مسجدوں میں اکٹھے ہو کر عبادت کرتے ہیں۔جب اُسے یہ بات بتائی جاتی ہے تو اُس کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ مجھے دیکھنا تو ای چاہیے کہ مسلمان کیا کرتے ہیں۔اور وہ اپنے دل میں سوچتا ہے کہ کبھی فرصت ملی تو میں مسجد کو ضروری دیکھوں گا۔ایسے سو آدمی بھی اگر مسجد کے سامنے سے گزرتے ہیں تو وہ سو کے سو اپنے دل میں یہ کی فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم فرصت ملنے پر کسی دن مسجد ضرور دیکھنے آئیں گے۔مگر پھر ان سو میں سے نوے بھول جاتے ہیں اور دس کو توفیق مل جاتی ہے اور وہ کسی وقت مسجد دیکھنے کے لیے آجاتے ہیں۔وہاں امام موجود ہوتا ہے۔وہ مسجد دیکھنے کے بعد اُس سے سوال کرتے ہیں کہ اسلام کیا چیز ہے؟ تم لوگ عیسائی کیوں نہیں ہو جاتے ؟ اسلام میں عیسائیت سے بڑھ کر کیا بات پیش کی جاتی ہے ہے؟ اور وہ ان باتوں کا جواب دیتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان دس میں سے ایک شخص ایسا بھی نکلے آتا ہے کہ جس کے دل پر زیادہ گہرا اثر پڑتا ہے اور وہ بار بار مسجد میں آتا اور امام سے ملنا شروع کر دیتا ہے اور آخر وہ مسلمان ہو جاتا ہے۔تو مسجد بھی ایک مبلغ ہے۔جس طرح مبلغ ایک مبلغ ہے۔پس ہماری جماعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ غیر ممالک میں مساجد کے قیام کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کے لیے ہر ممکن جد و جہد اور قربانی کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کریں۔