خطبات محمود (جلد 34)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 402

خطبات محمود (جلد 34) — Page 177

$1953 177 خطبات محمود رسول کریم ﷺ نے آپ کو نہیں دیکھا۔انہوں نے تو اُن لوگوں کو فر مایا ہو گا جو آپ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔اس لیے آپ اس حکم کے مخاطب نہیں ہو سکتے۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے رسول کریم ہے صلى الله نے انہی لوگوں کو فرمایا ہے کہ بیٹھ جاؤ۔مگر زندگی کا اعتبار نہیں میں نے سمجھا کہ اگر اُس جگہ پہنچے۔پہلے پہلے میری جان نکل گئی اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ایک حکم رسول کریم اللہ کا تم نے نہیں مانا تو میں اس کا کیا جواب دوں گا۔اس لیے خواہ یہ حکم میرے لئے ہو یا نہ ہو میں نے سمجھا کہ جب یہ آواز میرے کان میں پڑ گئی ہے۔تو اب میرا فرض ہے کہ میں اس پر عمل کروں 2ے۔اسی طرح ایک دفعہ صحابہ بیٹھے تھے۔اور شراب پی رہے تھے۔اُس وقت تک ابھی شراب کی مناہی کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔کوئی شادی تھی جس کی خوشی میں شرابیں پی جا رہی تھیں اور گانے گائے جارہے تھے کہ اتنے میں شراب کی حرمت کا حکم نازل ہو گیا۔رسول کریم ﷺ کا عام طریق یہی تھا کہ جب آپ پر کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو آپ مسجد میں تشریف لاتے اور ذکر فرماتے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر یہ وحی نازل ہوئی ہے۔پھر جو لوگ وہاں موجود ہوتے وہ آپ سے سن کر آگے دوسرے لوگوں میں بات پھیلا دیتے اور اس طرح سب میں مشہور ہو جاتی۔اُس دن آپ مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے۔جو لوگ وہاں موجود تھے وہ یہ سنتے ہی بھاگ کھڑے ہوئے۔اور جس گلی کوچہ میں سے گزرتے یہ اعلان کرتے جاتے کہ شراب حرام ہو گئی ہے۔جب اعلان کرنے والا اُس گلی میں سے گزرا جہاں لوگ دعوت کھا رہے اور شرا میں پی رہے تھے اور وہ ایک مٹکا ختم کر چکے تھے اور دوسرا مٹکا شروع کرنے والے تھے۔یہاں تک کہ بعض لوگ مخمور ہو چکے تھے اور بعض مخمور ہونے کے قریب تھے تو اُس نے وہاں بھی اعلان کیا کہ خدا تعالیٰ نے آج سے شراب حرام کر دی ہے۔جب یہ آواز اُن کے کانوں میں پڑی تو ایک صحابی نے دوسرے سے کہا کہ ذرا اُٹھ کر اس شخص سے پوچھو تو سہی کہ کیا بات ہے اور کیا واقع میں شراب حرام ہوگئی ہے؟ جس شخص سے یہ بات کہی گئی تھی اُس نے بجائے اعلان کرنے والے سے دریافت کرنے کے، سونٹا اٹھایا اور زور سے شراب والے مکے پر مار کر اسے توڑ دیا اور کہا پہلے میں شراب کا مٹکا توڑوں گا اور پھر اس سے پوچھوں گا کہ کیا حکم ہے؟ یعنی جب رسول کریم میایی کے نام سے ایک بات بیان کی جارہی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ پہلے اس پر عمل کریں اور پھر اگر