خطبات محمود (جلد 33) — Page 78
1952 78 خطبات محمود الگ ہوئے ، کئی بادشاہ اپنی بادشاہتوں سے الگ ہوئے لیکن بعد کی تاریخ نے انہیں بری قرار می دے دیا۔وہ کتنے سال تھے جو انہوں نے تکلیف میں گزارے۔یہی دس بارہ سال وہ تکلیف کی میں رہے اور انہوں نے ذلت کو برداشت کیا لیکن بعد کی تاریخ نے انہیں اتنا اچھا لا کہ وہی معطل شدہ کمانڈر اور بادشاہ عزت والے قرار پائے۔اس کے مقابلہ میں کتنے بڑے سرکش بادشاہ اور کمانڈر گزرے ہیں جنہیں اپنے وقت میں طاقت ، قوت اور دبد بہ حاصل تھا۔انہوں نے ماتحتوں پر ظلم بھی کئے لیکن سینکڑوں اور ہزاروں سال گزر گئے کوئی شخص انہیں اچھا نہیں سمجھتا۔ہر تاریخ پڑھنے والا انہیں ملامت کرتا ہے اور انہیں حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے۔ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کی اولا د بھی اپنے آپ کو اُن کی طرف منسوب کرنا پسند نہیں کرتی۔دنیا میں یزید کی تھی اولا دموجود ہے، ابو جہل کی اولاد بھی موجود ہے، فرعون کی اولا د بھی ہو گی لیکن کون ہے جو اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرنا پسند کرتا ہو اور یہ کہتا ہو کہ میں ان کی اولاد میں سے ہوں۔پس تم یہ مت خیال کرو کہ حکام اس طرف توجہ نہیں کرتے۔خدا تعالیٰ نے انہیں اس لئے مقرر کیا ہے کہ وہ دنیا میں امن قائم رکھیں۔ملک نے انہیں اس لئے مقرر کیا ہے کہ وہ امن قائم رکھیں۔قوم نے انہیں اس لئے مقرر کیا ہے کہ وہ امن قائم رکھیں۔اگر تم انہیں اس طرف توجہ دلاتے ہو تی لیکن وہ توجہ نہیں کرتے تو وہ اخلاقی عدالت میں مجرم قرار پائیں گے اور اخلاقی عدالت میں مجرم قرار پا جانے سے سخت سزا اور کیا ہوسکتی ہے۔باقی رہی یہ بات کہ لوگ تمہیں دکھ دیتے ہیں تو جب تم نے احمدیت کو قبول کیا تھا اُس وقت تم نے دشمن کو اس بات کی دعوت دی تھی کہ وہ تمہیں دکھ دے۔کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ تم ایک شخص کو بطور مہمان بلا ؤ اور جب وہ مہمان آئے تو تم رونے لگ جاؤ کہ وہ روٹی کھا گیا ہے؟ اگر تم نے کسی مہمان کو خود بلایا ہے تو تمہیں اس کی مہمان نوازی کرنی ہوگی۔اس طرح جب کوئی شخص کسی سچائی کو قبول کرتا ہے تو وہ سچائی کے دشمنوں کو دعوت دیتا ہے کہ اُس پر حملہ کریں اور وہ اس پر یقینا حملہ کریں گے۔اور اگر افسر فرض شناس بھی ہو جائیں بلکہ تمہاری تائید میں ظلم بھی کرنے لگ جائیں تب بھی شیطانی طاقتیں تم پر حملہ آور ہونگی۔حکومت کا ساتھ مل جانا یا خلاف ہو جانا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔اگر تم حق پر ہوا اور حکومت کا کوئی افسر تمہیں تکلیف دیتا ہے تو تم اسے جی