خطبات محمود (جلد 33) — Page 77
1952 77 خطبات محمود اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔جتنی دیر سے نتیجہ نکلے گا اتنا ہی وہ انہیں مجرم بنانے اور خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کانے کا موجب ہوگا۔دنیا کی حکومت جتنی گرفت کر سکتی ہے خدا تعالیٰ کی حکومت یقیناً اس سے زیاده گرفت کر سکتی ہے۔لیکن کسی شخص پر حجت تمام کر دنیا سب سے بڑا کام ہے۔خود سر جوشیلے اور بے وقوف لوگ اسے فضول سمجھتے ہیں۔لیکن عقل مند لوگ جانتے ہیں کہ سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ کسی شخص پر حجت پوری ہو جائے اور اس کے ساتھیوں اور دوسرے لوگوں پر حجت پوری ہو جائے۔اس کے بعد وہ خواہ عمل نہ کرے اس کے لئے یہی سزا کافی ہے۔پھر خدا تعالیٰ جو سزا دے گا وہ الگ ہے۔میں اُن لوگوں سے متفق نہیں ہوں جو کہتے ہیں حکومت نے پہلے کیا کیا ہے کہ ہم پھر اس کے پاس جائیں۔یہاں اس بات کا سوال نہیں کہ وہ کوئی علاج بھی کرتے ہیں یا تی نہیں۔یہ لوگ ہم پر مقرر کر دیئے گئے ہیں اور انہیں خدا تعالیٰ نے ہم پر حاکم مقرر کیا ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی انہیں اسی نام سے مخاطب کریں اور کہیں کہ تم ہمارے حاکم ہو اور امن قائم رکھنا تمہارا فرض ہے۔اور اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا نہ کریں تو ہم دوبارہ ان کے پاس جائیں گے اور انہیں اس طرف توجہ دلائیں گے۔بعض لوگ کہیں گے کہ وہ پھر بھی کچھ نہیں کریں گے۔میں کہتا ہوں یہ درست ہے لیکن ان پر حجت ضرور ہو جائے گی اور حجت قائم ہو جانا بڑی لکی بھاری چیز ہے۔اگر وہ پھر بھی اپنی ذمہ داری ادا نہیں کریں گے تو ہم تیسری مرتبہ ان کے پاس جائیں گے اور کہیں گے فساد بڑھ رہا ہے آپ لوگ قیام امن کے لئے کچھ کریں۔وہ پھر کوئی بہانہ بنائیں گے اور کہیں گے نہیں نہیں ہم اس طرف توجہ کریں گے۔اور اگر وہ پھر بھی توجہ نہیں کریں گے تو ہم چوتھی مرتبہ ان کے پاس جائیں گے۔تم کہو گے پھر کیا ہوگا ؟ وہ تو پھر بھی کچھ نہیں کریں گے۔میں کہوں گا وہ خواہ کچھ نہ کریں لیکن ان پر چار حجتیں ہو جائیں گی اور عقل و انصاف کی عدالت پر حجت پر حجت قائم ہونا بہت بڑی کامیابی ہے۔جو لوگ مادی چیزوں کو لیتے ہیں وہ کسی افسر کے موقوف ہو جانے اور اس کے ڈسمس (DISMISS) ہو جانے کا نام سزار کھتے ہیں۔بے شک وہ سزا ہے لیکن وہ سزا گھٹیا درجہ کی ہے۔کسی شخص کا مجرم ثابت ہو جانا اُس کا غیر ذمہ دار قرار پانا اور فرض ناشناس قرار پانا اس کے ڈسمس ہو جانے اور معطل ہو جانے سے زیادہ خطر ناک ہے۔کتنے آدمی ہیں جو معطل ہوئے۔لیکن بعد میں آنے والوں نے انہیں بری قرار دیا۔پرانے زمانہ میں کئی کمانڈر اپنی کمانوں۔