خطبات محمود (جلد 33) — Page 72
1952 72 خطبات محمود اپنے ماتحت سے اخلاص، ہمدردی اور رحم دلی والا سلوک کرتے ہو تو ہر شخص یہ کہے گا کہ تم انعام کے مستحق ہو۔لیکن اگر تم اپنے ماتحت سے بُر اسلوک کرتے ہو تو جس طرح گڈریا تمہاری بھینس کو مارتا ہے تو تم اُس پر خفا ہوتے ہو اسی طرح تم خدا تعالیٰ کے بندوں کو مارو گے تو وہ تم پر خفا ہوگا۔اگر تم بھینس یا بکری کو مارنے کی وجہ سے گڈریے پر خفا ہوتے ہو تو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو مارنے کی وجہ سے تم پر کیوں خفا نہ ہو گا۔کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہیں تمہاری بھینس یا بکری زیادہ پیاری ہی ہے اور خدا تعالیٰ کو اپنا بندہ پیارا نہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ نظر نہیں آتا اس لئے لوگ دھاندلی مچاتے ہیں اور اپنے عہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ہم سیر کے لئے پہاڑوں پر جاتے ہیں تو باوجود اس کے کہ ہم گھوڑوں پر ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ پیدل ہوتے ہیں جب ہم منزل مقصود پر پہنچتے ہیں کی تو وہ لوگ دبانا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں آپ تھک گئے ہوں گے۔اور یہ محض محبت کی وجہ کی سے ہوتا ہے۔خواہ ہم کتنا اصرار کریں کہ ایسا نہ کریں وہ یہی کہتے جاتے ہیں کہ نہیں نہیں آپ تھک گئے ہیں۔اور اس پر عقلاً کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔قادیان میں ایک غریب آدمی تھا وہ جہاں کہیں مجھے ملتا تھا کہتا تھا کہ آپ میری دعوت قبول کی نہیں کرتے۔آخر کچھ دیر کے بعد اس نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ چونکہ میں غریب ہوں اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ آپ میری دعوت منظور نہیں فرماتے۔جب میں نے دیکھا کہ اب اُس کا دل ٹوٹ جائے گا تو میں نے اُس کی دعوت منظور کر لی اور اُسے کہا کہ زیادہ تکلف نہ کرنا شور بہ وغیرہ کی بنا لینا۔چنانچہ اُس نے شور بہ بنالیا اور میں اُس کے ہاں کھانا کھانے چلا گیا۔میرے ساتھ صرف پرائیویٹ سیکرٹری تھے اور لوگ مدعو نہیں تھے۔کھانے سے فارغ ہو کر جب میں باہر نکلا تو ایک اور احمدی دوست دروازہ کے پاس کھڑے تھے۔وہ کہنے لگے کیا آپ اتنے غریب آدمی کی کی دعوت بھی قبول کر لیتے ہیں؟ میں نے کہا میری حالت ہی ایسی ہے کہ دونوں فریق مجھ پر شکوہ کرتے ہیں۔اگر غریب کی دعوت منظور نہ کروں تو وہ کہتا ہے میں چونکہ غریب ہوں اس لئے آپ میری دعوت قبول نہیں کرتے۔اور اگر غریب کی دعوت مان لیتا ہوں تو امیر کہتا ہے کہ آپ اتنے غریب آدمی کی دعوت کیوں قبول کرتے ہیں۔یہ شخص سالہا سال سے میرے پیچھے پڑا تھا کہ میری