خطبات محمود (جلد 33) — Page 71
1952 71 خطبات محمود لیتے ہیں اور یہ درست نہیں انہیں اس سے روکا جائے۔مگر سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص افسر کو اپنا بھائی یا باپ سمجھ کر اُس کا کام کر دیتا ہے تو اُسے کون منع کر سکتا ہے۔ہم یہاں آتے ہیں تو کئی مرد کی اور عورتیں ہمارے گھر آجاتی ہیں اور ہمارا کام کر دیتی ہیں۔جب مہمان آجاتے ہیں اور دوست سمجھتے ہیں کہ ایک دو آدمی اُن کی خدمت نہیں کر سکیں گے تو وہ آپ ہی آپ شوق سے آ جاتے ہیں کہ اور ہمارا ہاتھ بٹا دیتے ہیں۔پس اگر کوئی شخص کسی افسر کی شوق سے خدمت کرتا ہے تو اسے کوئی تھی روک نہیں سکتا۔یہ ایک فطرتی بات ہے کہ جس کسی سے پیار ہوتا ہے انسان اُس کی خاطر ہر قسم کی نجی تکلیف اٹھانے پر تیار ہو جاتا ہے۔اور اگر کوئی شخص پیار اور محبت کی وجہ سے ایسا کرتا ہے تو یہ کی بڑی عمدہ بات ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ افسر اُس سے باپ کی طرح سلوک کرتا ہے اور اپنے کی نیک سلوک کی وجہ سے اُس نے اپنے ماتحتوں کے اندر گہرا جذبۂ محبت پیدا کر لیا ہے۔لیکن اگر افسر اُس کی ناپسندیدگی کے باوجود کام کرواتا ہے تو وہ ظالم ہے اور اس کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔یہی چیز ہے جس کی وجہ سے فرانس اور روس میں بغاوت ہو گئی تھی۔اگر ہمارے ہاں بغاوت نہیں ہوتی تو اس کی وجہ یہ ج ہے کہ وہ شخص احمدی ہوتا ہے اور جماعت کے نظام کی وجہ سے بغاوت میں حصہ نہیں لیتا کیونکہ اُسے احمدیت بغاوت سے منع کرتی ہے اور وہ شخص ڈرتا ہے کہ اگر اس نے بغاوت کی تو نظام کی طرف سے اُسے سزا دی جائے گی۔لیکن اگر وہ میر پور میں ہوتا تو وہ سٹرائک میں شامل ہو جا تا کج اور پھر وہ افسر دیکھتا کہ کس طرح اُسے اُس کی منتیں کرنی پڑتیں۔بہر حال اپنے عہد ناجائز فائدہ اٹھانا ظلم ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْنُولٍ عَنْ رَعِيَّتِهِ 2 تم میں سے ہر شخص ایک گڈریا ہے اور جو مال اللہ تعالیٰ کی طرف۔اُس کے سپرد کیا گیا ہے اُس کے متعلق اُسی سے سوال کیا جائے گا۔جس طرح مالک گڈریے سے اپنے مال کے متعلق پوچھتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ بھی تم سے اپنے بندوں کے متعلق سوال کرے گا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے وہ ہر ایک شخص کے متعلق ہے۔خاوند سے اُس کی بیوی کے متعلق سوال کیا جائے گا ، ماں باپ سے اُن کی اولاد کے متعلق سوال کیا جائے گا ، اور افسر سے اُس کے ماتحتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا۔اسی طرح میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر تم ے سے