خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 73

1952 73 خطبات محمود دعوت قبول کر لو اور میں اس کی غربت کی وجہ سے اس کی دعوت قبول نہیں کرتا تھا تا اس پر بوجھ نہ پڑے۔اب اس ڈر سے کہ اس کا دل نہ ٹوٹ جائے میں یہاں کھانا کھانے آ گیا ہوں لیکن آپ کو یہ بات بھی ناگوار گزری ہے۔بہر حال اس قسم کے غلط اعتراضات ہوتے ہی رہتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کوئی ما تحت محبت اور پیار کی وجہ سے افسر کی خدمت کرتا ہے تو یہ قابلِ قد رفعل ہے۔یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ افسر کا اپنے ماتحتوں سے ایسا اچھا سلوک ہے کہ وہ اسے باپ سمجھتے ہیں۔لیکن اگر افسر ماتحت کو خدمت کرنے پر مجبور کرے تو وہ باپ نہیں وہ اپنے آپ کو حاکم سمجھتا ہے اور اپنے ماتحت کو اپنا غلام خیال کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ ایک دوست ابوسعید نامی عرب تھے۔رنگون میں اُن کی اچھی خاصی تجارت تھی۔وہ احمدی ہو کر قادیان آگئے۔بعد میں وہ ٹھوکر کھا گئے۔وہ مالدار آدمی تھے اور بڑی تجارت چھوڑ کر آئے تھے لیکن اُن کی طبیعت میں جوش پایا جاتا تھا۔اُن کی ہر وقت یہ خواہش ہوتی تھی کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت کی کروں۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک مقدمہ دائر تھا اور خواجہ کمال الدین صاحب اس مقدمہ میں وکالت کرتے تھے۔ابوسعید صاحب نے یہ خیال کیا کہ خواجہ صاحب اس مقدمہ میں کام کر رہے ہیں میں ان کی خدمت کروں تا مجھے بھی ثواب مل جائے۔چنانچہ باوجود اس کے کہ وہ ایک رئیس تھے خواجہ صاحب کے بُوٹ پالش کر دیتے ، انہیں دباتے بلکہ بعض اوقات اُن کا جی پاٹ بھی اٹھا لیتے۔خواجہ صاحب کو اُن کی خدمت سے یہ خیال گزرا کہ ابوسعید شاید اُن کی ذات کی وجہ سے ایسا کرتا ہے۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجلس میں تشریف فرما تھے ، میں بھی موجود تھا ، چٹائی چھوٹی تھی اس لئے کچھ دوست ایسے بھی تھے جنہیں چٹائی پر جگہ نہ ملی۔تھوڑی دُور پرے ایک اور چٹائی پڑی تھی۔خواجہ صاحب نے ابوسعید صاحب عرب سے کہا۔عرب صاحب ! وہ چٹائی ذرا ادھر کر دیں۔اس پر وہ فوراً جوش میں آگئے اور انہوں نے کہا کیا میں آپ کے باپ کا نوکر ہوں؟ اب سننے والے حیران تھے کہ یہ کیا ہوا۔خواجہ کمال الدین صاحب کا رنگ بھی زرد ہو گیا۔بعد میں انہوں نے ابوسعید عرب سے کہا۔عرب صاحب ! آپ تو بڑی کی خدمت کرنے والے آدمی ہیں آپ نے اُس وقت کیا کہہ دیا۔انہوں نے کہا میں آپ کی خدمت می