خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 328

خطبات محمود 328 1952 ہونے کے بعد وہ اپنے اپنے ملک میں جا کر اسلام کی اشاعت کریں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مدینہ ایک بھٹی کی طرح ہے جس طرح بھٹی میں کچیل کو دور کر دیتی ہے 2ے اسی طرح جس شخص میں روحانی لحاظ سے میل کچیل ہوتی ہے یعنی جو شخص مخلص نہیں ہوتا وہ یہاں آکر اسلام سے اور بھی دور ہو جاتا ہے۔اسی طرح ربوہ بھی ایک بھٹی ہے بعض آنے والے اپنی شامت اعمال کی وجہ سے ٹھو کر بھی کھائیں گے۔مگر جو لوگ یہاں آکر نیک نیتی سے اور اخلاص سے تعلیم حاصل کریں گے وہ دین کی خدمت کریں گے۔اگر وہ اپنا دنیوی کا روبار بھی کریں گے تو وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ اشاعتِ اسلام میں مدد دیں گے۔مثلاً سماٹرا سے ایک نو جوان یہاں آئے تھے اگر چہ انہوں نے وقف نہیں کیا تھا اور واپس جا کر انہوں نجی نے ایک پرائیوٹ ملازمت اختیار کر لی لیکن وہ نہایت مخلص ثابت ہوئے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان کے لوگ بھی وصیت کی اتنی پابندی نہیں کرتے جتنی وہ نو جوان پابندی کر رہے ہیں۔وہ بدھوں سے احمدی ہوئے ہیں۔اُن کی اولاد میں بھی جوش ہے۔میرے پاس اُن کے بچوں کے بھی خطوط آتے رہتے ہیں۔پس بعض لوگ اگر چہ واقف زندگی نہیں وہ اپنا چی کا روبار کرتے ہیں تاہم وہ اشاعتِ اسلام میں سلسلہ کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ان میں سے ایک ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ہیں۔وہ اس وقت سالی لینڈ میں ہیں۔وہ ملازم ہیں لیکن میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ کسی واقف زندگی سے کم ہیں۔ان کے ذریعہ سے وہاں جماعتیں قائم ہو رہی ہیں اور اس رنگ میں قائم ہو رہی ہیں کہ یوں معلوم ہو گیا ہے کہ اُن کے اخلاص کی وجہ سے آسمان بھی اُن کی تائید کر رہا ہے۔مجھے وہاں سے اکثر خطوط آتے ہیں جن میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ ہمیں خواب آئی اور کی خواب میں ہمیں ہدایت کی گئی کہ تم نذیر احمد کی طرف توجہ کرو۔وہاں کے لوگوں کو کثرت سے خوا میں آ رہی ہیں کہ نذیر احمد کی طرف توجہ کرو گویا اُن کا اخلاص اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ آسمان پر خدا تعالیٰ بھی اُن کی تائید میں فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں کو اُن کی طرف متوجہ کریں۔جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے تحریک جدید کے اجراء سے پہلے کوئی مشنری کا لج نہیں تھا۔اب مشنری کالج کا اجراء ہو گیا ہے اور اس کالج سے ایسے نو جوان نکل رہے ہیں جو پہلے طلباء سے علم میں زیادہ ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ معیار کے عین مطابق ہیں۔ابھی ان کے لئے اخلاقی، علمی اور دینی ترقی کی بہت گنجائش ہے۔لیکن بہر حال وہ پہلوں سے زیادہ عالم ہیں۔پھر تحریک جدید