خطبات محمود (جلد 33) — Page 327
1952 327 خطبات محمود رنگ میں ظاہر ہوئے ہیں کہ بیرونی ممالک کے طلباء جن میں سے بعض واقف زندگی ہیں اور بعض واقف زندگی نہیں یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئے ہیں۔بے شک بعض نو جوان واقف زندگی نہیں۔وہ اپنے طور پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن اگر وہ اخلاص سے دنیوی کا روبار کے ساتھ ا ساتھ اشاعتِ اسلام بھی کرتے رہیں تو یہ بھی اسلام کی ایک بھاری خدمت ہو گی۔بہر حال اس کی میں کوئی شبہ نہیں کہ باہر سے آنے والے سارے نوجوان واقف زندگی نہیں۔کچھ واقف زندگی ہیں اور کچھ نہیں۔لیکن جو واقف زندگی نہیں وہ بھی ایسے ممالک سے آئے ہیں جن تک تحریک جدید سے قبل احمدیت کی تعلیم نہیں پہنچی تھی۔جب یہ نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے ملکوں میں پہنچیں گے تو اسلام کی اشاعت کے نئے ذرائع نکل آئیں گے۔غرض تحریک جدید سے پہلے تو تین چار مبلغ بیرونی ممالک میں تبلیغ کر رہے تھے لیکن تحریک جدید کے اجراء کے بعد میرے خیال میں یہ مبلغ پچاس کے قریب ہو گئے ہیں۔گویا دس گنے زیادتی ہوئی ہے۔اور ابھی تو ابتدا ہے۔صاف بات ہے کہ جب تک مبلغ پیدا نہیں ہوں گے اسلام کو ساری کی دنیا میں نہیں پھیلایا جا سکتا۔میں ان کی موجودہ زیادتی کو نہیں دیکھتا بلکہ آئندہ کا نقشہ دیکھ رہا نچ ہوں۔اس وقت تحریک جدید کا ایک کالج قائم ہے۔اس میں سے آٹھ دس مبلغ سالا نہ نکلتے ہیں کی جن میں سے نصف تو صدر انجمن احمدیہ لے لیتی ہے اور نصف تحریک جدید لے لیتی ہے۔اگر تحریک جدید اور صد را مجمن احمدیہ کو ملنے والے مبلغین کی تعداد پانچ پانچ بھی ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ پچھلے انیس سال میں دس گنا مبلغ ہوئے ہیں اور اگلے 19 سال میں ان کی تعداد میں گنے ہو جائے گی۔یعنی جو مبلغ ابتدا میں تھے اُن سے موجودہ مبلغین کی تعداد اُس وقت تک تمہیں 30 گنے زیادہ ہو جائے گی۔کون کہہ سکتا ہے کہ جماعت آئندہ ترقی نہیں کرے گی۔اگر جماعت اخلاص اور نجی ارادے میں بڑھ جائے تو جامعتہ المبشرین کے فارغ ہونے والے طلباء کی تعداد آٹھ دس نہیں رہے گی بلکہ ان کی تعداد پندرہ ہیں تک یا چالیس پچاس تک بڑھ جائے گی اور اس صورت میں نجی آئندہ 19 سال کے بعد مبلغین تحریک جدید سے پہلے کے مبلغین سے تہیں گنے زیادہ نہیں ہو جائیں گے بلکہ پچاس گنے یا سو گنے سے زیادہ ہو جائیں گے۔غرض تحریک جدید کے اجراء کے بعد نہ صرف کئی ممالک میں نئے مشن قائم ہو گئے ہیں بلکہ زائد بات یہ ہوئی ہے کہ براہِ راست ان ممالک سے بعض طالب علم یہاں آئے ہیں اور وہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔اپنی تعلیم سے فارغ