خطبات محمود (جلد 33) — Page 329
1952 329 خطبات محمود کے اجراء سے پہلے ہمارے پاس ایسے گریجوایٹ نہیں تھے جو د مینیات سے بھی واقف ہوں۔لیکن کی اب ایسے نوجوان موجود ہیں جو مولوی فاضل ہیں اور گریجوایٹ بھی ہیں یا بی اے ہیں۔اور آئندہ مولوی فاضل بن جائیں گے اور اس قابل ہو جائیں گے کہ اگر وہ انگریز دانوں کی مجلس میں کی جائیں اور وہ کہیں کہ یہ ملاں ملنٹے ہیں تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم بھی تمہاری طرح انگریزی جانتے ؟ ہیں۔اور اگر مولویوں کی مجلس میں جائیں اور وہ کہیں کہ تم انگریزی دان ہو تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم مولوی فاضل بھی ہیں اور دین سے ہمیں واقفیت ہے۔گویا جو کچھ تم جانتے ہو وہ ہم بھی جانتے ہیں۔غرض تبلیغ اور اشاعت اسلام کی نئی راہیں کھل رہی ہیں اور کچھ عرصہ تک علم دین اور علم دنیا میں جو خلیج حائل ہے وہ پاٹ جائے گی اور اس پر ایسے پل بن جائیں گے جن کے ذریعہ تمام اختلافات دور ہو جائیں گے۔تحریک جدید کے اجراء کے وقت اس میں یہ بات بھی شامل کی گئی تھی کہ ہمارے سارے پروگرام سادہ ہوں، ہم سادہ کپڑے پہنیں ، سادہ خوراک استعمال کریں، دعوتوں اور شادیوں میں سادگی اختیار کریں۔کچھ عرصہ تک تو اس پر عمل ہوتا رہا لیکن اب اس میں ایک حد تک کمزوری کی پیدا ہو گئی ہے۔دراصل اس میں بعض باتیں اصلاح طلب تھیں مثلاً بعض بیمار ہوتے ہیں وہ بیمار ہونے کی وجہ سے اس تحریک پر پوری طرح عمل نہیں کر سکتے تھے۔یا بعض جگہوں پر ملکی رسم و رواج کی کے مطابق کھانے کی طرز ایسی ہوتی ہے کہ ایک کھانے میں کفایت نہیں ہو سکتی۔مثلاً جب یہ تحریک شروع ہوئی تو مجھے بہار اور بنگال سے خطوط آنے شروع ہوئے کہ ہمارے ہاں کھانے کا دستور ایسا ہے کہ ہم اس سکیم پر پوری طرح عمل نہیں کر سکتے۔وہاں چھوٹے چھوٹے گھروں میں بھی ایک دو کھانے تیار ہو جاتے ہیں۔مثلاً وہ لوگ اُبلے چاول کھاتے ہیں۔خشکہ چاول کو کھانے کے لئے کی اور اسے صحیح طور پر ہضم کرنے کے لئے کسی پہلی چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔وہ لوگ پتلی سی دال بنات لیتے ہیں اور اس سے چاولوں کو تر کر لیتے ہیں۔لیکن وہ ہمیشہ اس سادہ دال سے طاقت قائم نہیں کی رکھ سکتے اس لئے وہ تھوڑا سا سالن بھی ساتھ پکا لیتے ہیں۔دال کے ساتھ خشکہ کو کھانے کے قابل کی کر لیتے ہیں اور صحت کو برقرار رکھنے کے لئے تھوڑا سا سالن بھی استعمال کر لیتے ہیں۔غرض ی کھانے کے دستور کے مطابق چھوٹے سے چھوٹے گھر میں بھی دوستم کا سالن تیار ہو جاتا ہے۔اب اگر یہ حکم دیا جائے کہ وہ ایک سالن پکائیں تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ یا تو وہ صرف دال پر