خطبات محمود (جلد 33) — Page 251
1952 251 خطبات محمود نے سختی کی۔وہ ابھی بچے تھے۔مخالفین نے اُن کے منہ سے بعض الفاظ نکلوا لئے۔رسول کریم کی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا لگا تو آپ نے محبت سے اُن کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور ایسے الفاظ کہے جن سے اُن کی دلجوئی ہو۔مومن کی شان یہی ہے کہ جتھے اُسے مارتے ہیں تو مارتے رہیں۔اگر اکثریت اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اُس پر ظلم کرتی ہے تو کرتی رہے وہ اُسے برداشت کرتا جاتا ہے۔لوگ اسے صداقت سے پھیرنا چاہتے ہیں لیکن وہ پھرتا نہیں وہ صداقت پر قائم رہتا ہے۔لیکن اگر کوئی کمزور طبیعت شخص کمزوری دکھا جاتا ہے تو طاقتوروں کو بھی چاہیے کہ وہ کمزور کا خیال رکھیں۔آپ اُس کے ساتھ ایسے رنگ میں پیش آئیں کہ اسے پشیمانی محسوس ہو اور وہ تو بہ کرے۔بہر حال ایک مومن ڈر ، رُعب اور جتھے سے ڈر کر اپنا ایمان نہیں چھوڑتا۔وہ دوسروں پر خود حملہ نہیں کرتا۔وہ خود آئین شکنی اور فساد نہیں کرتا۔وہ دوسروں سے لڑتا نہیں۔لیکن جہاں تک عقائد کا سوال ہے وہ قانون سے بالا ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ نہیں۔خدا اور بندے کے درمیان کوئی حکومت بھی کھڑی نہیں ہو سکتی۔جہاں تک مذہب اور ایمان کا سوال ہے کسی حکومت کو اس میں دخل حاصل نہیں۔ایسی کوئی حکومت نہیں جو کسی کے مذہب میں دخل دے۔اگر کوئی کہتا ہے کہ حکومت پاکستان ایسا کرے گی تو حکومت کو اُسے پکڑنا چاہیئے کیونکہ وہ حکومت کو پاگل اور وحشی قرار دیتا ہے۔مذہب میں دخل دینے والے وحشی ہوتے ہیں۔اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ حکومت پاکستان مذہب میں دخل دے گی وہ حکومت کو وحشیوں کی طرح دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔عقیدہ کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہے۔یہ حکومت کے زور سے بدلا نہیں جاسکتا۔اگر عیسائی کسی مسلمان کو ماریں اور کہیں کہ تم تین خدا تسلیم کر لو تو یہ کیسے ہو سکتا ہے۔اگر کوئی شخص مجھے پکڑلے اور کہے تم یہ کہو کہ میں ایک نہیں دو ہوں تو خواہ وہ کتنا عذاب دے میں اپنے آپ کو ایک ہی کہوں گا۔پس اگر خدا تعالیٰ ایک ہے تو کون کہے گا کہ خدا تین ہیں۔اگر کمزور طبیعت کا کوئی شخص تین خدا کہہ بھی دے تو اس کا اپنا دل یہ تسلیم کرے گا کہ میں ایسا کہنے میں سچا نہیں۔جان بچانے کی خاطر میں نے جھوٹ بولا ہے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بچے ہیں تو خواہ سارا شہر چڑھ آئے لاکھ دولاکھ کا جتھا حملہ کر دے، ڈرائے اور طاقت کا رُعب دے کر کہے تم کہو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام (نعوذ باللہ ) جھوٹے ہیں تو ہم کس طرح آپ کو جھوٹا کہیں گے۔کمزور طبیعت انسان اگر