خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 250

1952 250 خطبات محمود بڑا چلنے والا ہوتا ہے اور بڑا ہی بے ضرر ہوتا ہے۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ نے ایسے سینیا اور مکہ میں رہ کر وہاں کی حکومتوں کے قواعد کی پابندی کی لیکن ساتھ ہی وہ نڈر بھی ہوتا تج ہے۔کوئی اسے مارتا ہے یا گالیاں دیتا ہے تو وہ اس کی پروا نہیں کرتا۔ایک صحابی جو پہلے مسلمان نہیں تھے بعد میں وہ مسلمان ہو گئے ہمیشہ یہ واقعہ سنایا کرتے تھے۔اس وقت میں سارا واقعہ تو سنا نہیں سکتا اختصار کے ساتھ بیان کر دیتا ہوں۔وہ کہتے ہیں میں مسلمان نہیں تھا میں ایک لڑائی میں شامل ہو گیا اور ہم نے مسلمانوں کو مارنا شروع کیا۔اتنے میں مسلمانوں کا ایک لیڈر بیچ میں اُتر آیا۔ہم میں سے دو تین آدمیوں نے اُس پر حملہ کر دیا اور کی ایک شخص نے آگے بڑھ کر اُس کے سینہ میں نیزہ مارا اور وہ گر پڑا۔جب وہ گرا تو اُس کی زبان کی سے نکلا فُزُتُ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ 4 کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔میں نے کہا یہ عجیب آدمی ہے گھر سے دور ہے ، بے وطن ہے، بیوی بچے پاس نہیں ، دھوکا میں اسے یہاں لایا گیا ؟ ہے،اسے وصیت کرنے کا بھی موقع نہیں ملا مگر بجائے اس کے کہ یہ روتا وہ نعرہ مارتا ہے کہ فزت بِرَبِّ الْكَعْبَةِ کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔وہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں اُس کی قبیلے کا آدمی نہیں تھا جس نے اس شخص کو شہید کیا۔میں ان کے ہاں بطور مہمان مقیم تھا اور لڑائی میں ان کے ساتھ شامل ہو گیا تھا۔اس واقعہ کو دیکھ کر میں مدینہ آ گیا تا دیکھوں کہ یہ کیسے لوگ ہیں جنہیں موت میں لذت محسوس ہوتی ہے۔چنانچہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کی حاضر ہوا اور چند دن وہاں رہا۔مجھے صداقت کا احساس ہوا اور میں مسلمان ہو گیا۔پھر آگے وہ صحابی کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! اتنے سال گزر گئے کہ یہ واقعہ ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر بھی اتنے سال گزر گئے لیکن میں جب بھی یہ واقعہ سناتا ہوں وہ نظارہ میرے سامنے آجاتا ہے اور میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میں اس نظارہ کو بھول نہیں سکتا 5- پس جہاں تک قانون کا سوال ہے جماعت اس کی پابندی کرے گی۔لیکن جہاں تک لٹھ بازی کا سوال کی ہے ہر مخلص احمدی لاٹھیاں کھاتا جائے گا اور صداقت کا اظہار کرتا جائے گا۔بعض کمزور کمزوریاں کی دکھا چکے ہیں اور ممکن ہے آئندہ بھی دکھائیں کیونکہ بعض طبائع کمزور بھی ہوتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اُحد میں بھاگے تو آپ نے فرمایا تم لوگ فرار نہیں ہو کرار ہو۔کیونکہ تمہارا جنگ میں دوبارہ جانے کا ارادہ تھا۔اسی طرح ایک اور صحابی تھے اُن پر مخالفین کی