خطبات محمود (جلد 33) — Page 249
1952 249 خطبات محمود ضروری ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کوئی کیسا مسلمان ہے بندے کا کام نہیں کی بندے کا کام یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان کہے تو وہ اُسے مسلمان کہے۔اگر میں کی کہتا ہوں میں مسلمان ہوں تو اُسے مجھے مسلمان ماننا پڑے گا۔اگر زید کہتا ہے میں مسلمان ہوں تو اُسے زید کو مسلمان ماننا پڑے گا چاہے وہ شافعی ہو ، حنفی ہو، مالکی ہو، حنبلی ہو۔پس اکثریت اگر گھمنڈ میں آکر تمہیں مارتی ہے تو اُسے مارنے دو۔تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ تم تھوڑے ہو۔اس لئے نہیں کہ تم مسلمان نہیں بلکہ اس لئے کہ احمدی کہلانے والے مسلمان غیر احمدی کہلانے والے مسلمانوں سے کم ہیں اور عربی زبان میں اسے اقلیت کہتے ہیں۔اقلیت کے یہ معنی نہیں کہ ہم مسلمان نہیں کیونکہ ہم منہ سے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور قیامت تک اپنے آپ کو مسلمان کہتے جائیں گے یہاں تک کہ ہم بڑھ جائیں۔اور اگر خدا تعالیٰ کی تقدیر چاہتی ہے کہ وہ احمدیہ کو قائم رکھے تو یقیناً ہم بڑھیں گے اور بڑھتے چلے جائیں گے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس فتنہ کے ایام میں بھی جن لوگوں میں جرات ہوتی ہے وہ لوگوں کے غلط الزامات کی تردید کر دیتے ہیں۔ایک دوست نے مجھے خط لکھا کہ میں احمدی نہیں میں سیاسی آدمی کی ہوں مذہبی نہیں لیکن جوں جوں میں نے اخبارات میں پڑھنا شروع کیا کہ احمدی پاکستان کے غدار ہیں تو مجھے پتا لگا کہ ایسا کہنے والے جھوٹے ہیں۔میں کٹر پاکستانی تھا۔میں نے پاکستان کی خاطر بہت سی قربانیاں کیں اور میرے وفادار ساتھیوں میں سے بعض احمدی بھی تھے۔پس جب میں اخبارات میں پڑھتا ہوں کہ احمدی غدار ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسا کہنے والے جھوٹے ہیں۔یہ خیالات ہزاروں کے نہیں لاکھوں کے ہیں لیکن سب میں یہ جرات نہیں کہ اس کا اظہار کریں۔لیکن ایک وقت آئے گا جب لوگ جرات سے اس کا اظہار کریں گے۔لاہور، گورداسپور، فیروز پور وغیرہ کے لاکھوں آدمی ہیں جن کے ساتھ احمدی مل کر کام کرتے رہے۔راولپنڈی کا اخبار تعمیر آج کل ”زمیندار“ کا ہمنوا ہے۔لیکن آج سے کچھ سال پہلے ایڈیٹر نے اپنے ایک ناول میں لکھا تھا کہ احمدیوں نے پاکستان کی خاطر بہت سی قربانیاں کی ہیں۔آج کی وہ جو کچھ چاہتے ہیں کہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ اُس وقت ایڈیٹر اخبار تعمیر نے کیا لکھا تھا۔مصیبت کے وقت اُس کے منہ سے سچ نکل گیا تھا۔پس یہ چیزیں وقتی ہیں مومن اور شریف آدمی وہی ہے جس کے ہاتھ سے ایک چیونٹی کو بھی ضرر نہیں پہنچتا۔وہ قانون کا بڑا ہی پابند ہوتا ہے، وہ قانون ہے