خطبات محمود (جلد 33) — Page 223
1952 223 خطبات محمود گویا ان کی مخالفت ہمارے آقا کی محبت کی وجہ سے ہے۔جب ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ ہم تی رسول کریم ﷺ سے محبت کرنے والے ہیں تو وہ کہیں گے کہ یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنے والے ہیں ، ان کی مدد کرو۔یہ دن ضرور آئے گا۔آخر غلط فہمیاں کب تک جائیں گی۔ایک انگریز مصنف نے لکھا ہے کہ تم ساری دنیا کو چند دن کے لئے دھوکا دے سکتے ہو، تم کچھ لوگوں کو ہمیشہ کے لئے دھوکا دے سکتے ہو۔لیکن تم ساری دنیا کو ہمیشہ کے لئے دھوکا نہیں دے سکتے۔یعنی یہ ممکن ہے کہ سو فیصدی لوگ چند دن کے لئے گمراہ ہو جائیں یا دس آدمی ہمیشہ کے لئے گمراہ ہو جائیں۔لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ساری دنیا ہمیشہ کے لئے گمراہ ہو جائے۔حقیقت یہ ہے کہ سچائی آہستہ آہستہ کھل جاتی ہے۔آخر تم کہاں سے آئے ہو؟ پیدائشی احمدیوں کو جانے دو باقی وہی ہیں جو احمدیوں کو گالیاں دیتے تھے۔مجھے کئی لوگ ایسے ملتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم آپ کو قتل کرنے آئے تھے پھر ایمان لے آئے۔آخر انہی لوگوں میں سے تم آئے ہو۔یہ تعلق خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔جس خدا نے تمہارے اندر یہ تغیر پیدا کیا ہے اُسے طاقت حاصل ہے کہ ان لوگوں کے اندر بھی تغیر پیدا کر دے۔پس خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرو اور آگے بڑھتے چلے جاؤ۔تم اپنے نفسوں پر تو کل نہ کرو۔تمہارا تو کل محض خدا پر ہونا چاہیے کیونکہ انسان بے وفا ہوتا ہے۔انسان ڈرپوک ہوتا ہے اور وہ کی بسا اوقات ڈر کے مارے سچائی کو چھوڑ دیتا ہے۔پس تم خدا تعالیٰ کے سامنے جاؤ ، اُسے طاقت بھی حاصل ہے اور وہ بے وفا بھی نہیں۔وہ جب دیکھتا ہے کہ اُس کے بندوں کی بلا وجہ مخالفت ہو رہی ہے ہے تو اُس کی غیرت بھڑک اٹھتی ہے۔اور جب مخالف کہتا ہے کہ ہم نے اپنے حریف کو ماردیا تو وہ مرے ہوئے انسان میں نئی طاقت اور نئی زندگی پیدا کر دیتا ہے اور وہ آدم کی طرح تمام دنیا پر (الفضل14 جون 1961ء) چھا جاتا ہے۔1: يس: 31 66 :2 مسلم کتاب صفات المنافقين باب تحريش الشَّيْطَان۔(الخ) 3: السّيرَةُ النَّبوِيَّة فى فتح الْبَارِى جزء ثانى صفحہ 361۔مطبوعہ کو یت 2001ء 4 سیرت ابن ہشام جلد 4 صفحہ 87 ، مطبوعہ مصر 1936ء (مفہوما ) 5 درثمین فارسی صفحه 107 شائع کردہ نظارت اشاعت و تصنیف ربوہ۔