خطبات محمود (جلد 33) — Page 222
1952 222 خطبات محمود کان لگا کر آواز کو سُنا تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دعا کر رہے ہیں۔اور آپ کہہ رہے ہیں کہ اے خدا ! طاعون پڑی ہوئی ہے اور لوگ اس کی وجہ سے مررہے ہیں۔اے خدا! اگر یہ سب لوگ مر گئے تو تجھ پر ایمان کون لائے گا۔اب دیکھو طاعون وہ نشان تھا جس کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی۔طاعون کے نشان کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی پیشگوئیوں سے بھی پتا لگتا ہے۔لیکن جب طاعون آتی ہے تو وہی شخص جس کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لئے وہ آتی ہے خدا تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑا تا ہے اور کہتا ہے کہ اے اللہ ! اگر یہ لوگ مر گئے تو تجھ پر ایمان کون لائے گا۔پس مومن کو عام لوگوں کے لئے بددعا نہیں کرنی چاہیے۔کیونکہ وہ انہی کے بچانے کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔اگر وہ ان کے لئے بددعا کرے گا تو وہ بچائے گا کس کو؟ احمدیت قائم ہی اس لئے ہوئی ہے کہ وہ اسلام کو بچائے ، احمدیت قائم ہی اس لئے ہوئی ہے کہ وہ مسلمانوں کو بچائے۔انسان کی عظمت انہیں واپس دلائے۔بنو عباس اور بنوامیہ کے زمانہ میں مسلمانوں کو جو شوکت اور عظمت حاصل تھی آج وہی شوکت اور عظمت احمدیت مسلمانوں کو دینا چاہتی ہے۔مگر ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتی ہے کہ بنوعباس اور بنو امیہ کی خرابیاں ان میں نہ آئیں۔پس جن لوگوں کو اعلیٰ مقامات پر پہنچانے کے لئے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے ان کے لئے ہم بددعا کیسے کر سکتے ہیں۔آخر تم سے زیادہ خدا تعالیٰ کی غیرت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام میں فرمایا ہے۔اے دل تو نیز خاطر ایناں نگاه دار کارتر کنند دعویٰ پیمبرم 5 اس میں خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل کو مخاطب کرتے ہوئے آ۔کے منہ سے کہلاتا ہے۔اے میرے دل ! تو ان لوگوں کے خیالات ، جذبات اور احساسات کا خیال رکھا کر۔تا ان کے دل میلے نہ ہوں۔یہ نہ ہو کہ تو تنگ آکر بد دعا کرنے لگ جائے۔آخر کی ان کو تیرے رسول سے محبت ہے اور وہ اسی محبت کی وجہ سے جو انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سے ہے تجھے گالیاں دیتے ہیں۔یہی اصل چیز ہے۔ہم جانتے ہیں کہ ہمارے مخالفوں میں سے ایک حصہ نا واجب مخالفت کر رہا ہے۔لیکن ایک حصہ محض اُن کے جال میں پھنس گیا ہے اس لئے وہ ہماری مخالفت کرتا ہے۔