خطبات محمود (جلد 33) — Page 95
1952 95 خطبات محمود پرانے علماء نے اس بات پر بحث کی ہے کہ دین پڑھانے کی مزدوری جائز ہے یا نا جائز۔اور اکثریت کا یہ فتوی ہے کہ دین پڑھانے کی اجرت یا تنخواہ لینا نا جائز ہے۔اقلیت کے نزدیک مزدوری لینا جائز ہے اور اس کی دلیل انہوں نے یہی دی ہے کہ اسے کھانے کے لئے بھی کچھ چاہیے۔گو اس کی نیت یہی ہے کہ وہ دین کا کام کرے۔لیکن اس لئے کہ اسے کھانے کے لئے کچھ چاہیے وہ مجبوراً کچھ تنخواہ لے لیتا ہے۔لیکن جب وہ فارغ اوقات میں سلسلہ کا کام نہیں کرتا تو اس بات کی کیا دلیل ہے کہ وہ سلسلہ کا خادم ہے۔اگر وہ تنخواہ کے لئے چار گھنٹے پڑھاتا ہے اور کی پھر سارا دن تبلیغ کرتا ہے تو کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ تنخواہ دار ہے۔کیونکہ وہ صرف چار گھنٹے تنخواہ کے لئے کام کرتا ہے اور باقی وقت خدمت دین میں مفت صرف کرتا ہے۔اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مومن ہے۔وہ ایسا کرنے سے عباد اللہ میں داخل ہو جاتا ہے عِبادُ النَّاس میں نہیں۔کیونکہ اس کی زندگی بتا رہی ہے کہ وہ ہر وقت خدمت دین میں لگا رہتا ہے۔پس سب سے پہلے میں علماء کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اندر زندگی کی روح پیدا کریں اور اپنے مقام کو سمجھیں۔وہ جتنی نمازیں مرکزی مسجد میں پڑھ سکیں پڑھیں۔اگر کوئی عالم پانچوں نمازیں مرکزی مسجد میں ادا نہیں کرتا تو چار ہی پڑھ لے۔یا دوسرے کے ساتھ یہ طے کرے کہ تم فلاں فلاں نماز مرکزی مسجد میں ادا کرو اور میں فلاں فلاں نماز مرکزی مسجد میں ادا ای کروں گا۔بہر حال مرکزی مسجد میں ہر وقت علماء اور ان کے نمائندوں کا ہونا ضروری ہے تا کہ وہ بوقت ضرورت نماز پڑھا سکیں اور مسجد میں آنے والوں کو مسائل دینیہ سکھا سکیں۔“ 66 (الفضل 25 جنوری 1961ء) :1: واہ ضلع راولپنڈی میں پشاور روڈ پر ٹیکسلا کے ساتھ واقع ایک شہر جو تقسیم ہند کے بعد مہاجر کیمپ کے طور پر استعمال کیا گیا۔2 مانسر: ضلع اٹک میں دریائے سندھ پر واقع ایک قصبہ جو تقسیم ہند کے بعد مہاجر کیمپ کے طور پر استعمال کیا گیا۔3 صحیح بخارى كتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة :4 صحیح بخاری کتاب الاذان باب الاستهام في الاذان ( مفهوما ) 5: صحیح بخاری کتاب الجهاد والسير باب الحمائل وتعليق السَّيف بالْعُنُقِ