خطبات محمود (جلد 33) — Page 94
1952 94 خطبات محمود اور دوسرا شخص اپنی جان محفوظ کرتا ہے۔تاجر کی آدمیت اور ہے اور سپاہی کی آدمیت اور ہے۔کی تاجر کا کام ہے کہ وہ اپنی جان بچائے اور سپاہی کا کام ہے کہ وہ اپنی جان دے۔پس دونوں میں فرق ہے۔جب ایک آدمی عالم ہوتا ہے تو اُس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ مسجد میں اپنی زندگی گزارے۔ہاں اگر سلسلہ کا کام اسے دوسری جگہ لے جائے تو اور بات ہے۔مثلاً سلسلہ کی طرف سے اس کے سپر د تالیف و تصنیف کا کام کیا جائے تو تالیف و تصنیف کا کام مسجد میں نہیں کی ہوگا۔تالیف و تصنیف کا کام کسی گوشہ میں ہوگا اور وہ مجبوراً کسی گوشہ میں چلا جائے گا۔لیکن جن کی کے سپر د پڑھانے کا کام ہے وہ جہاں تک تنخواہ کا سوال ہے اپنے مقررہ اوقات میں اسکول جائیں۔لیکن کچھ وقت مسجدوں میں بھی دیں۔اگر تنخواہ والا اسکول جاتا ہے اور وہاں پڑھاتا ہے تو اُس نے مالک کا حق ادا کیا ہے لیکن یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ بھی اُس پر خوش ہو جائے۔یہ کوئی خوبی اور قابل تعریف بات نہیں کہ ایک شخص تنخواہ کے لئے مقررہ اوقات میں سکول میں جائے اور پڑھاتی آئے۔ایک مدرس کے خادم دین ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ وہ تنخواہ والے وقت کے بعد فارغ وقت میں خدمت دین میں لگ جائے۔اس سے پتا لگ جائے گا کہ اگر اُس کا تنخواہ کے بغیر گزارہ ہو جاتا تو وہ تنخواہ نہ لیتا بلکہ مفت خدمت دین میں لگا رہتا۔لیکن اگر وہ فارغ وقت میں خدمت دین کے علاوہ اور کاموں میں مصروف ہو جاتا ہے تو وہ خادم دین نہیں وہ محض تنخواہ کے لئے کام کر رہا ہے۔نبی اور ایک عام آدمی میں یہی فرق ہے۔نبی بھی روٹی کھاتا ہے اور دوسرا آدمی بھی روٹی کھاتا ہے۔لیکن نبی کے کھانے اور دوسرے آدمی کے روٹی کھانے میں فرق ہے۔ایک نبی کو روٹی ملے یا نہ ملے وہ کام کرتا ہے۔لیکن دوسرے آدمی کو روٹی نہ ملے تو وہ کام نہیں کرتا۔اس کی طرح ایک مومن اور ایک عام آدمی میں فرق ہے۔مومن بھی روٹی کھاتا ہے اور ایک عام آدمی بھی روٹی کھاتا ہے۔لیکن ایک مومن کو کام کا بدلہ ملے یا نہ ملے وہ کام کرتا ہے۔دوسرا آدمی اگر اسے اس کے کام کا بدلہ نہ ملے تو وہ کام نہیں کرتا۔پس کسی انتظامی جماعت کا ممبر ہونا بُری بات نہیں۔بشرطیکہ یہ ثابت ہو جائے کہ وہ پیٹ پالنے کے لئے تنخواہ لینے پر مجبور ہے۔لیکن ہے مبلغ۔کیونکہ وہ فارغ اوقات میں خدمت دین میں لگا رہتا ہے۔