خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 240 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 240

$1951 240 خطبات محمود بڑھتے جاتے ہیں۔گویا ان کے مختلف مدارج ہوتے ہیں۔پہاڑوں میں بھی مدارج ہوتے ہیں۔بچپن میں ہم سمجھتے تھے کہ یکدم کوئی جگہ اتنی اونچی آجاتی ہے کہ وہ آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہے۔لیکن جب پہلی دفعہ میں شملہ گیا تو پتا بھی نہیں لگتا تھا کہ یہ کوئی پہاڑ ہے۔ایک چھوٹا سا ٹیلہ نظر آتا تھا۔جب گاڑی اُس پر چڑھ گئی تو ایک اور ٹیلہ نظر آ گیا اور جب گاڑی اُس پر بھی چلی گئی تو ایک اور ٹیلہ نظر آنے لگا۔غرض پہاڑوں کا وہ نقشہ جو ہم نے بچپن میں اپنے ذہن میں جمایا ہوا تھا وہ آٹھ ہزارفٹ پر بھی نظر نہیں آتا تھا کیونکہ پہاڑ کے بھی مدارج ہوتے ہیں۔جوں جوں ہم اوپر چڑھتے ہیں توں توں جسے ہم پہلے پہاڑی خیال کرتے تھے وہ زمین بن جاتی ہے اور اگلی جگہ پہاڑی معلوم ہوتی ہے۔غرض تمام چیزیں تدریج کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔سردی اور گرمی کو دیکھ لو یہ بھی تدریج کے ساتھ آتی ہیں۔آہستہ آہستہ سردی یا گرمی زیادہ ہوتی جاتی ہے اور ایک وقت میں آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب انتہائی سردی ہے یا انتہائی گرمی ہے۔یہی حال دین کا بھی ہے۔کوئی شخص یہ خیال بھی نہیں کر سکتا کہ خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت غالب آ جائے گی بلکہ غیر تو کیا کمزور ایمان والے خود بھی نہیں سمجھتے کہ وہ کبھی غالب آجائیں گے۔اگر وہ سمجھتے کہ وہ ایک دن غالب آجائیں گے تو وہ کمزوری نہ دکھاتے بلکہ مومنوں سے بڑھ کر مضبوط رہتے کیونکہ مومن تو صرف آخرت پر ایمان رکھتے ہیں لیکن یہ لوگ دنیاوی لالچ کی بناء پر کام کرتے ہیں۔اگر انہیں انتہائی ترقی نظر آتی تو وہ کمزوری کیوں دکھاتے۔پچھلے دنوں جو کچھ پنجاب میں گزرا ہے اگر تین دن قبل بھی یہ بات روشن ہو جاتی کہ سب کچھ سکھ اور ہندو لے لیں گے تو ایک ڈاکو اور چور مسلمان بھی ایسا نہ ہوتا جو اپنا سارے کا سارا مال خدا تعالیٰ کی راہ میں نہ دے دیتا۔اسی طرح جس شخص کو پتا ہو کہ اسے عزت، مال اور حکومت ملنے والی ہے اُسے قربانی کے وقت اتنی تکلیف بھی نہ ہو جتنی تکلیف ایک زمیندار کو بیچ ڈالتے وقت ہوتی ہے۔بہر حال خدا تعالیٰ نے اپنی ترقی کو تدریجی رکھا ہے تا کہ مومن اور منافق کا فرق ظاہر ہو جائے۔سورۃ بقرہ کی یہ آیت که كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِيْهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا 5 اس مضمون کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خدا تعالیٰ کی جماعت کی ایک ہی حالت نہیں رہتی۔ایک وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ روشنی ہی تھی روشنی ہے لیکن دوسرے وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ تاریکی ہی تاریکی ہے۔فرمایا اسلام اسی طرح